امریکا۔ایران کشیدگی کے اثرات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ساڑھے 4 فیصد سے زائد اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ کروڈ 88.10 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 82.49 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں ساڑھے 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برطانوی برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 88.10 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 82.49 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتیں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مہنگائی میں اضافے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ تیل درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک، پر اضافی مالی دباؤ ڈال سکتا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے اور مجموعی معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی سرمایہ کاروں کی جانب سے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث دیکھی جا رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 18 جولائی، 2026 کو 05:43 AM
آخری تدوین: 18 جولائی، 2026



