ٹرمپ کے دستخط بے وقعت، امریکہ ناقابلِ اعتبار؛ ایران کے سپریم لیڈر کا سخت وار، 'ناقابلِ فراموش سبق' سکھانے کی دھمکی

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایرانی قوم اور "محاذِ مزاحمت" کے پاس ایسے "ناقابلِ فراموش اسباق" موجود ہیں جو وہ مناسب وقت پر امریکہ کو سکھا سکتے ہیں
(تہران / واشنگٹن) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے خلاف انتہائی سخت اور غیر معمولی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی بار بار خلاف ورزی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط "مکمل طور پر بے وقعت، ناقابلِ اعتبار اور اعتماد کے لائق نہیں رہے

تحریری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایرانی قوم اور "محاذِ مزاحمت" کے پاس ایسے "ناقابلِ فراموش اسباق" موجود ہیں جو وہ مناسب وقت پر امریکہ کو سکھا سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے گزشتہ ماہ طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے
یہ سخت بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ گزشتہ ہفتے ٹوٹ گیا، جس کے بعد دونوں ممالک مسلسل ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ تازہ کشیدگی کے دوران امریکی فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں امریکی مفادات اور اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں

واضح رہے کہ جون 2026 میں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور مستقل امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس وقت خود مجتبیٰ خامنہ ای نے بعض تحفظات کے باوجود اس معاہدے کی منظوری دی تھی، تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنی ہی تحریری یقین دہانیوں کی پاسداری نہیں کی

تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان نہ صرف واشنگٹن کے لیے سخت سفارتی پیغام ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب امریکہ کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی معاہدے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ موجودہ صورتحال نے خطے میں کشیدگی، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سفارت کاری کے مستقبل پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 19 جولائی، 2026 کو 12:51 AM
آخری تدوین: 19 جولائی، 2026



