ایران سے معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کریں گے، ٹرمپ کی سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت ابھی حتمی نہیں، اگر متوقع معاہدہ قابل قبول نہ ہوا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی، اور اگر متوقع معاہدہ امریکی مفادات کے مطابق نہ ہوا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف عائد کی گئی ناکہ بندی انتہائی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ ان کے بقول ایران کی بحری، فضائی اور زمینی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کا دفاعی نظام، میزائل تنصیبات اور ریڈار سسٹمز بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ایک پائیدار معاہدے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جائے گی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے وہ آج ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران میں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کرے گا اور ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچی۔ اگر مجوزہ معاہدہ انہیں قابل قبول نہ ہوا تو امریکا دوبارہ بمباری اور فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
ان کے حالیہ بیان کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اور اس کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 17 جون، 2026 کو 11:41 AM
آخری تدوین: 17 جون، 2026



