امریکا کی پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف کی تجویز، درآمدات مہنگی ہونے کا خدشہ

امریکی تجارتی نمائندہ دفتر نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی۔ الزام ہے کہ یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ اشیاء کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے
واشنگٹن امریکی تجارتی نمائندہ دفتر نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ یہ اقدام ان ممالک کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ اشیاء کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزام کے تحت سامنے آیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق مجوزہ ٹیرف 10 سے 12.5 فیصد تک ہو سکتے ہیں، تاہم ان کے نفاذ سے قبل عوامی رائے، تحریری تجاویز اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
امریکی حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ جائزہ لیا گیا کہ آیا امریکا کے تجارتی شراکت دار ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کو روکنے کے لیے مناسب اور مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں چین، یورپی یونین، جاپان اور دیگر متعدد ممالک کا بھی جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 54 ممالک ایسے پائے گئے جو جبری مشقت سے تیار شدہ اشیاء کی درآمد پر پابندی کے نفاذ میں ناکام رہے، جبکہ پاکستان سمیت 6 ممالک میں ان پابندیوں پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اپنے بیان میں کہا کہ اہم تجارتی شراکت دار ممالک کی جانب سے جبری مشقت کے مسئلے کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اس طرز عمل کے باعث امریکی ورکرز کو غیر منصفانہ تجارتی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یو ایس ٹی آر کے مطابق پاکستان سمیت بعض ممالک پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ دیگر 45 ممالک کے لیے 12.5 فیصد تک ٹیرف تجویز کیا گیا ہے۔ تاہم بعض اشیاء کو اس اقدام سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں بیف، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔ اسی طرح شمالی امریکا کے تجارتی معاہدے کے تحت کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد ہونے والی مخصوص مصنوعات بھی مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی حکومت نے 6 جولائی تک عوام اور متعلقہ فریقین سے تحریری تجاویز طلب کی ہیں، جس کے بعد سماعتوں کا انعقاد ہوگا اور پھر نئے ٹیرف کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیا گیا عارضی 10 فیصد ٹیرف 24 جولائی کو ختم ہونے والا ہے۔ مذکورہ ٹیرف کو قانونی چیلنج کا سامنا بھی رہا تھا اور امریکی سپریم کورٹ اس حوالے سے اہم قانونی کارروائی کر چکی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ ٹیرف نافذ کیے گئے تو پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کی برآمدات پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے اور امریکی منڈی تک رسائی کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 3 جون، 2026 کو 12:30 PM
آخری تدوین: 3 جون، 2026



