غزہ سے انخلا پر اسرائیلی سیاست میں اختلافات، نیتن یاہو پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا

غزہ میں حماس کے مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کے مجوزہ معاہدے کے بعد اسرائیل کے ممکنہ انخلا پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ نیتن یاہو کو سیاسی بقا، اتحادیوں کی حمایت اور بین الاقوامی دباؤ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے
تل ابیب: غزہ میں حماس کے مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کے مجوزہ معاہدے کے بعد اسرائیل کے ممکنہ انخلا کے معاملے پر اسرائیلی سیاسی حلقوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جبکہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت حماس مرحلہ وار ہتھیار ڈالے گی، جبکہ اسرائیل غزہ سے بتدریج اپنی افواج کا انخلا کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کے انتظامی اختیارات ایک فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کیے جانے کی تجویز بھی شامل ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا۔
دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس مکمل اور حقیقی معنوں میں غیر مسلح نہیں ہو جاتی، اسرائیل غزہ سے انخلا نہیں کرے گا۔ اس بیان نے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ انتخابات کے تناظر میں وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو اپنی سیاسی بقا، حکومتی اتحادیوں کی حمایت اور امریکا سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ سے انخلا اور سیکیورٹی سے متعلق فیصلے آنے والے دنوں میں اسرائیل کی داخلی سیاست اور خطے کی مجموعی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 2 اگست، 2026 کو 02:59 AM
آخری تدوین: 2 اگست، 2026



