محسن نقوی سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، خواجہ آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر سسٹم میں بنیادی تبدیلی لانی ہے تو اس کا آغاز وزارت داخلہ سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان، پارلیمنٹ اور کابینہ کے کردار پر بھی زور دیا
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر سسٹم میں بنیادی تبدیلی لانا مقصود ہے تو اس کا آغاز وزارت داخلہ سے ہونا چاہیے، جس کی ذمہ داری وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے پاس ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیشنل ایکشن پلان کے 13 نکات کا ذکر کیا تھا، جن میں سے ایک نکتے پر عمل درآمد پاک فوج کی ذمہ داری تھی، جس پر جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر عمل کیا، تاہم باقی 12 نکات وزارت داخلہ کی ذمہ داری تھے، جن پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ اگر نظام کو مضبوط اور اس میں بنیادی اصلاحات لانا مقصود ہیں تو اس کا آئینی اور جمہوری فورم پارلیمنٹ ہے۔ ان کے بقول محسن نقوی خود بھی پارلیمنٹ کے رکن ہیں، اس لیے وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ میں زیر بحث لا سکتے ہیں تاکہ اصلاحات آئینی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ محسن نقوی پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاسوں میں شاذ و نادر ہی شرکت کرتے ہیں، جبکہ وہ گزشتہ ساڑھے تین برس سے نظام کے اہم اور بااختیار عہدوں پر فائز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ چاہتے تو اس عرصے کے دوران نظام میں تبدیلی کے لیے مؤثر اقدامات کر سکتے تھے، تاہم "دیر آید، درست آید"۔
وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ محسن نقوی خود ایک بااختیار شخصیت ہیں، لیکن ملکی نظام کا ارتقائی عمل دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے زیر اثر رہا ہے، جسے ان مفادات سے آزاد کر کے مضبوط اور مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 2 اگست، 2026 کو 02:54 AM
آخری تدوین: 2 اگست، 2026



