وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ایران سے مذاکرات یا جنگ؟ ٹرمپ نے قومی سلامتی اجلاس طلب کر لیا

W
Web Desk
12 مئی، 2026
ایران سے مذاکرات یا جنگ؟ ٹرمپ نے قومی سلامتی اجلاس طلب کر لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے کشیدگی کے معاملے پر اہم قومی سلامتی اجلاس طلب کر لیا۔ اجلاس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، آبنائے ہرمز میں بحری مشن اور جوہری پروگرام پر دباؤ بڑھانے کے آپشنز پر غور ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے بڑھتی کشیدگی کے معاملے پر آج اہم قومی سلامتی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی اور مذاکراتی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے بعد واشنگٹن میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر خاطر خواہ لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں، جس کے بعد امریکی انتظامیہ دباؤ بڑھانے کے نئے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ بظاہر کسی بڑے تصادم سے گریز چاہتے ہیں اور ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کر سکے، تاہم امریکی مطالبات مسترد ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس میں عسکری آپشنز دوبارہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس،خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ،سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلیف اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین کی شرکت متوقع ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے اور نیوکلیئر پروگرام پر رعایتیں حاصل کرنے کیلئے کسی قسم کے محدود فوجی ایکشن کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔

امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زیر غور تجاویز میں آبنائے ہرمز میں بحری نگرانی کے مشن کو دوبارہ فعال کرنا بھی شامل ہے، جبکہ ایران کے ان اہداف پر حملوں کی تجویز بھی زیر غور ہے جن کی نشاندہی پہلے ہی کی جا چکی ہے لیکن اب تک کارروائی نہیں ہوئی۔

دوسری جانب اسرائیل کی قیادت بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کو غیر مؤثر بنانے کیلئے خصوصی آپریشن پر غور کیا جائے، تاہم صدر ٹرمپ اس منصوبے کے ممکنہ خطرات کے باعث محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی فیصلوں پر ٹرمپ کے متوقع دورہ چین کے ممکنہ اثرات کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں کسی بڑے بحران سے پہلے عالمی سفارتی توازن کو مدنظر رکھنا چاہتا ہے۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ یہ بیان دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی “لائف سپورٹ” پر ہے، جبکہ وہ ایران کی نئی تجاویز کو “احمقانہ” قرار دے کر مسترد بھی کر چکے ہیں۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 12 مئی، 2026 کو 05:38 AM

آخری تدوین: 12 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ کیلیفورنیا میں تباہ، عملے کے تمام 8 افراد ہلاک
امریکا

امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ کیلیفورنیا میں تباہ، عملے کے تمام 8 افراد ہلاک

بی-52 اسٹریٹوفورٹریس امریکی فضائیہ کے اسٹریٹجک بمبار بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہ جوہری اور روایتی دونوں اقسام کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بغیر ایندھن بھرے 8 ہزار میل سے زائد فاصلے تک پرواز کر سکتا ہے

Web Desk16 جون، 2026
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، ٹرمپ کا اعلان، تیل بردار جہاز دوبارہ روانہ
امریکا

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، ٹرمپ کا اعلان، تیل بردار جہاز دوبارہ روانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور تیل بردار جہاز محفوظ راستوں سے اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہیں۔ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

Web Desk15 جون، 2026
امریکی سینیٹر لینزی گراہم کا ایران معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کا مطالبہ
تازہ ترین

امریکی سینیٹر لینزی گراہم کا ایران معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کا مطالبہ

امریکی سینیٹر لینزی گراہم نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے کو کانگریس کے سامنے منظوری اور ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے۔ انہوں نے معاہدے کی مختلف تشریحات پر بھی تشویش ظاہر کی

Web Desk15 جون، 2026