ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اب مذاکرات پر آمادہ ہے کیونکہ امریکا نے سخت مؤقف اختیار کیا
مشی گن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف دہراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا ہے، جس کے بعد تہران مذاکرات پر آمادہ ہوا ہے۔
ریاست مشی گن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام بھی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی ڈرون اور میزائل بنانے کی زیادہ تر صلاحیت کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے بقول ایران اب اپنی سابقہ پیداواری صلاحیت کے صرف تقریباً سات فیصد کی رفتار سے ڈرون تیار کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب امریکا کے ساتھ معاہدے اور مذاکرات کی بات کر رہا ہے، تاہم اگر امریکا نے سخت کارروائی نہ کی ہوتی تو مذاکرات کی نوبت کبھی نہ آتی۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے ایران کو گزشتہ 47 سے 50 برس سے مشرقِ وسطیٰ کا "غنڈہ" قرار دیتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایران پالیسی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اوباما کا خیال تھا کہ ایران کو رعایتیں دے کر منایا جا سکتا ہے، لیکن "ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، اور ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں۔"
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی خوشگوار مذاکرات جاری ہیں اور آنے والے وقت میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
بحری ناکہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اتنی مؤثر ہے کہ ایک بھی کشتی گزر نہیں سکتی۔ ان کے مطابق ایران امریکا سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔
نوٹ: صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ان کے اپنے دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ایران کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 28 جولائی، 2026 کو 05:57 AM
آخری تدوین: 28 جولائی، 2026



