ایران جنگ میں یورپ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، ٹرمپ کا نیٹو قیادت سے شکوہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو چیف مارک روٹے سے ملاقات میں ایران جنگ کے دوران یورپی ممالک کی عدم حمایت پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات، منجمد اثاثوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہم دعوے بھی کیے۔ایران جنگ میں یورپ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا
(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے یورپی اتحادیوں کی عدم حمایت پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں نیٹو اور متعدد یورپی ممالک نے امریکہ کا مؤثر ساتھ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی، فرانس اور اسپین جیسے اہم اتحادی ممالک نے بھی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کیا جس سے امریکہ کو مایوسی ہوئی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف واضح برتری حاصل کر چکا ہے اور موجودہ صورتحال میں مذاکرات بھی مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات میں اہم رعایتیں دینے پر آمادہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات بہتر انداز میں طے پا رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مالی امداد دینے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو براہ راست کوئی رقم فراہم نہیں کرے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایران اپنے منجمد اثاثوں کے ذریعے امریکی کسانوں سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر غذائی اجناس خرید سکتا ہے، کیونکہ ملک کو خوراک کی شدید ضرورت درپیش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین جنگ نے عالمی دفاعی صنعت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور اس کے نتیجے میں دفاعی سازوسامان کی پیداوار اور فراہمی کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نہ کوئی ٹول ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اضافی انشورنس فیس وصول کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے بعض منجمد فنڈز امریکی کنٹرول میں ہیں اور انہی فنڈز کو امریکی زرعی شعبے سے خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر کے حالیہ بیانات نے ایران، امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان تعلقات اور خطے کی سیاسی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ عالمی برادری ان پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 25 جون، 2026 کو 03:38 AM
آخری تدوین: 25 جون، 2026



