ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو ابھی زیادہ نقصان نہیں پہنچا اور وہ مزید بڑے فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی کانگریس میں ایران سے متعلق قراردادوں پر مختلف فیصلے سامنے آئے ہیں
(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی آپریشن کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئی عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے Axios سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ابھی زیادہ تکلیف نہیں پہنچی اور مستقبل میں اس کے خلاف پہلے سے زیادہ بڑے حملے کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ نئی کارروائیاں "آپریشن ایپک فیوری" کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ وسیع ہو سکتی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کے حق میں قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ آئے، جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی۔
تاہم آئینی اور قانونی طور پر یہ قرارداد ٹرمپ انتظامیہ کو کسی فوری اقدام کا پابند نہیں بناتی۔
ادھر امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے سے متعلق قرارداد مسترد کر دی۔ قرارداد کے حق میں 47 جبکہ مخالفت میں 49 ووٹ آئے، جس کے باعث اسے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہو سکی۔
امریکا میں ایران سے متعلق پالیسی پر کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مختلف فیصلے اس معاملے پر سیاسی اختلافات کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 24 جولائی، 2026 کو 04:05 AM
آخری تدوین: 24 جولائی، 2026



