فاروق عبداللہ کا مودی حکومت پر تنقید، کولگام واقعے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ

نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ نے کولگام واقعے پر مودی حکومت کی سکیورٹی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، جبکہ میر واعظ عمر فاروق نے مذاکرات کے ذریعے امن پر زور دیا
سری نگر: جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے کولگام میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد بھارتی حکومت کی سکیورٹی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں فاروق عبداللہ نے پاکستان کو کولگام واقعے سے جوڑنے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کے مطابق دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا ہے اور سرحد پر مکمل نگرانی موجود ہے تو حملہ آور کہاں سے آئے۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب بھی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت یا ریاستی درجہ (Statehood) کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑتا ہے تو ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں۔ ان کے مطابق جنتر منتر میں ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے بعد کولگام میں مزدوروں پر حملہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
فاروق عبداللہ نے مطالبہ کیا کہ کولگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ خطے میں حالات معمول پر آ چکے ہیں تو پھر جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ کیوں بحال نہیں کیا جاتا۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ کانگریس پارٹی نے بھی کولگام واقعے کے حوالے سے فوری طور پر کسی بیرونی عنصر کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا۔
واضح رہے کہ کولگام واقعے اور اس کے اسباب کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور مبصرین کی جانب سے متضاد مؤقف سامنے آئے ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سکیورٹی اور تفتیشی اداروں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مختلف سیاسی رہنما اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 4 اگست، 2026 کو 03:49 AM
آخری تدوین: 4 اگست، 2026



