پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باقاعدہ مذاکرات آج شروع ہوں گے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے EFF کے چوتھے اور RSF کے تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات آج شروع ہوں گے، دونوں جائزوں کے بعد تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت متوقع ہے
اسی موضوع سے پڑھیں
اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے کے لیے باقاعدہ مذاکرات آج شروع ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کا سٹاف مشن آئیوا پیٹرووا کی قیادت میں پاکستان پہنچ چکا ہے اور تقریباً دو ہفتے قیام کے دوران اکتوبر کے پہلے ہفتے تک دونوں جائزوں کو مکمل کرنے کی کوشش کرے گا۔ دونوں جائزوں کی کامیاب تکمیل کے بعد پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملنے کی توقع ہے۔
اقتصادی ٹیم بھی مذاکرات میں شریک ہوگی
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے، جبکہ مذاکرات میں وزیر خزانہ کے ساتھ پاکستانی اقتصادی ٹیم کے ارکان بھی شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں 30 جون تک کے معاشی و مالی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ساورن ویلتھ فنڈ، گردشی قرضے میں کمی اور دیگر معاشی اقدامات پر آئی ایم ایف حکام کو بریفنگ دی جائے گی۔
ٹیکس اصلاحات اور گردشی قرض زیر بحث
مذاکرات کے دوران چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، پرائمری سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ تبادلہ کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔
آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس اصلاحات پر بات چیت ہوگی، جبکہ وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرضے اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔
اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات پر بھی بات ہوگی
ذرائع کے مطابق نیب اور ایف آئی اے بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے اور اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات سے آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کریں گے۔
آئی ایم ایف حکام پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں سے بھی مذاکرات کریں گے۔ اس دوران صوبائی ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو میں بہتری کے اقدامات، بالخصوص زرعی ٹیکس کی وصولی سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
پٹرولیم لیوی پر خصوصی سیشنز
پاکستانی اقتصادی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کے دوران پٹرولیم لیوی پر خصوصی سیشنز بھی ہوں گے، جبکہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نئی قسط کے حصول کے لیے پالیسی سطح کے مذاکرات متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو وزیراعظم کی پٹرول سبسڈی اسکیم پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔ جون 2026 تک پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1,468 ارب روپے مقرر تھا، جبکہ اس مدت تک 1,567 ارب روپے جمع ہونے کا بتایا گیا ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کیا جائے گا کہ ملک نے بیشتر مقررہ معاشی اہداف حاصل کیے ہیں۔
شائع ہوا: 28 ستمبر، 2026 کو 05:02 AM
آخری تدوین: 28 ستمبر، 2026



