آبنائے ہرمز میں فرانسیسی کارگو جہاز پر حملہ، عالمی تجارت اور تیل رسد کو نیا خطرہ

آبنائے ہرمز میں فرانسیسی کارگو جہاز “سان انتونیو” پر حملے کے بعد عالمی بحری راستوں کی سلامتی پر تشویش بڑھ گئی۔ حملے میں 8 ملاح زخمی ہوئے جبکہ تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
(واشنگٹن -محمد نعیم اختر ) آبنائے ہرمز میں ایک فرانسیسی کارگو جہاز پر حملے کے بعد عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق حملے میں آٹھ ملاح زخمی ہوئے۔
فرانسیسی شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کے کنٹینر جہاز “سان انتونیو” کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور عالمی بحری راستے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران ماضی میں بھی اُن بحری جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے جو اس کی نگرانی یا اجازت کے بغیر اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “پروجیکٹ فریڈم” نامی فوجی مشن کو عارضی طور پر روکنے کے بعد سامنے آیا۔ اس منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو امریکی فوجی تحفظ فراہم کرنا تھا۔
تاہم واقعے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ اور فرانسیسی شپنگ کمپنی کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز نے “پروجیکٹ فریڈم” کے مقررہ حفاظتی طریقہ کار پر مکمل عمل نہیں کیا اور حملے کے بعد امریکا کے بجائے عمان سے مدد طلب کی۔
دوسری جانب فرانسیسی کمپنی سی ایم اے سی جی ایم نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ جہاز کا سفر امریکی بحری ادارے “نیول کوآپریشن اینڈ گائیڈنس فار شپنگ” کے تعاون اور تمام طے شدہ قواعد کے مطابق کیا جا رہا تھا۔
کمپنی نے بتایا کہ زخمی عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
بحری ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ کو امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ بندی یا کوئی ممکنہ معاہدہ طے پاتا ہے تو سب سے اہم قدم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل بحال رہ سکے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ تہران امریکی جنگ بندی منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دہرائی ہے۔
ادھر فرانس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ فرانس اپنا طیارہ بردار بحری بیڑا “شارل ڈی گال” بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر رہا ہے تاکہ خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 32 بحری جہازوں پر حملے کیے جا چکے ہیں جبکہ 10 ملاح جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
بحری اور توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 مئی، 2026 کو 04:44 AM
آخری تدوین: 7 مئی، 2026



