وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ایرانی حملوں کے بعد امریکا خلیجی فوجی اڈے منتقل کرنے پر غور، وال اسٹریٹ جرنل کا بڑا انکشاف

W
Web Desk
26 جون، 2026
ایرانی حملوں کے بعد امریکا خلیجی فوجی اڈے منتقل کرنے پر غور، وال اسٹریٹ جرنل کا بڑا انکشاف

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد امریکا بحرین، کویت اور سعودی عرب میں اپنی فوجی حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے، جبکہ بعض اہم فوجی تنصیبات کو محفوظ مقامات منتقل کرنے پر بھی غور جاری ہے

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کر رہا ہے، جبکہ بعض اہم فوجی تنصیبات کو زیادہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر، تصدیق شدہ ویڈیوز اور موجودہ و سابق امریکی فوجی اہلکاروں سے حاصل معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ بحرین میں قائم Naval Support Activity Bahrain پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، گودام اور دیگر اہم تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف بحرین میں واقع امریکی بحری اڈے کی مرمت اور تعمیرِ نو پر تقریباً 400 ملین ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے، جبکہ خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کی مالیت 2 ارب ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے ان نقصانات کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کیں، تاہم اندرونی سطح پر امریکی فوج خطے میں اپنی موجودگی، دفاعی صلاحیت اور فوجی حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکا بحرین میں فوجی تنصیبات کی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ کویت اور سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی محدود کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بعض اہم فوجی اثاثوں اور تنصیبات کو ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی رینج سے زیادہ محفوظ علاقوں، حتیٰ کہ اسرائیل، منتقل کرنے کے مختلف آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں خلیجی خطے میں امریکی فوجی حکمتِ عملی کی سب سے بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے، جس کے علاقائی سلامتی، طاقت کے توازن اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 26 جون، 2026 کو 12:18 PM

آخری تدوین: 26 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکا اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنے پر اتفاق
تازہ ترین

امریکا اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنے پر اتفاق

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران نے کشیدگی میں کمی کے لیے پاسدارانِ انقلاب اور امریکی فوجی حکام کے درمیان دوحہ میں براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے

Web Desk26 جون، 2026
پاکستان کی قیادت میں اقوامِ متحدہ میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی عالمی مہم
پاکستان

پاکستان کی قیادت میں اقوامِ متحدہ میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی عالمی مہم

حکومتِ پاکستان نے وزیراعظم پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی کا آغاز کیا ہے، جس کے لیے عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے تعاون سے 25 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کو صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بننے سے روکنا ہے

محمد نعیم اختر25 جون، 2026
ایران جنگ میں یورپ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، ٹرمپ کا نیٹو قیادت سے شکوہ
تازہ ترین

ایران جنگ میں یورپ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، ٹرمپ کا نیٹو قیادت سے شکوہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو چیف مارک روٹے سے ملاقات میں ایران جنگ کے دوران یورپی ممالک کی عدم حمایت پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات، منجمد اثاثوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہم دعوے بھی کیے۔ایران جنگ میں یورپ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا

Web Desk25 جون، 2026