جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے، حکومت سے مذاکرات بھی ہوں گے: حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومتی درخواست کے باوجود دھرنے جاری رہیں گے جبکہ مذاکرات بھی ہوں گے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے، پٹرول اور روٹی کی قیمت کم کرنے کا مطالبہ کردیا
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے دھرنے موخر کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم دھرنے بھی جاری رہیں گے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی چلیں گے۔
حکومتی مذاکراتی وفد نے منصورہ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔ وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔
ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں بدامنی کی صورتحال سے دشمن فائدہ اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی یا سیاسی اجتماعات کو تخریب کار اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، اس لیے تمام فریقوں کو ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
احسن اقبال نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ملک کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں عوام کو ریلیف دینے کی خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے حوالے سے جماعت اسلامی کی تجاویز کو سنا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے جماعت اسلامی سے درخواست کی کہ ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ مختلف معاملات پر تفصیلی مذاکرات کیے جاسکیں۔
رانا ثنا اللہ نے اس موقع پر کہا کہ حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی وفد کی گزارشات کو سنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا مقصد بھی عام آدمی کو ریلیف دلانا ہے، جبکہ ایران جنگ کے اثرات کے باعث عام شہری پر معاشی بوجھ بڑھا ہے۔
دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دھرنا کسی ذاتی ایجنڈے کے لیے نہیں دیا بلکہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف دلانے کے لیے احتجاج کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج دھرنوں کا 19واں دن ہے اور مہنگائی کی وجہ سے معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہورہا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی نے لوگوں کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے اور عالمی اداروں کی رپورٹس بھی ملک میں غربت میں اضافے کی نشاندہی کررہی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے اپنے مقررہ ہدف سے زائد پٹرولیم لیوی کی مد میں 100 ارب روپے جمع کیے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور پٹرول کی قیمت میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو براہ راست ریلیف مل سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے باوجود کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں عوام سے پیسے وصول کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرے، پٹرول کی قیمت کم کرے اور روٹی سستی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت غریب عوام کے لیے روٹی کی قیمت 10 روپے کردے تو اس سے عام آدمی کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومتی وفد نے دھرنے موخر کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم جماعت اسلامی کے دھرنے بھی چلتے رہیں گے اور مذاکرات کا عمل بھی جاری رہے گا۔
انہوں نے مذاکرات کے لیے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
شائع ہوا: 3 ستمبر، 2026 کو 02:36 PM
آخری تدوین: 3 ستمبر، 2026



