آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایرانی بحریہ سے رابطہ لازمی، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ

پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کیلئے ایرانی مقرر کردہ راستوں اور بحریہ کے ساتھ رابطے کو لازمی قرار دے دیا۔ قطر نے ایرانی فیس منصوبے کی حمایت سے انکار جبکہ محمد باقر قالیباف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایران کی کامیابی قرار دیا
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محفوظ آمدورفت صرف انہی بحری راستوں کے ذریعے ممکن ہوگی جو ایران نے باضابطہ طور پر مقرر کیے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی منظوری کے بغیر کسی نئے شپنگ روٹ کا اعلان ناقابلِ قبول ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی اور بحری جہازوں کو ایرانی حکام کی ہدایات پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔
بیان کے مطابق آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ صرف ایران کے مقرر کردہ راستوں تک محدود ہے، جبکہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ پیشگی رابطہ اور کوآرڈینیشن لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ قواعد اور ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد خطے میں بحری سلامتی اور آمدورفت کے نظم کو برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کے کسی بھی ایرانی منصوبے کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کوئی مجوزہ ماڈل پیش کرتا ہے تو اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

قطری وزیراعظم نے کہا کہ دنیا تک قطر کی رسائی کے واحد سمندری راستے پر کسی دوسرے ملک کا کنٹرول قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 30 روز کے دوران خلیجی خطے میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی۔
ادھر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آذربائیجان میں او آئی سی پارلیمانی یونین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایرانی قوم کی مزاحمت، استقامت اور طاقت کی علامت قرار دیا۔

محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی یادداشت کسی دباؤ یا جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایران کی مضبوط سفارتی اور قومی پالیسی کا عکاس ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ امریکہ کی ناکامی اور ایران کی کامیاب حکمت عملی کا ثبوت بن چکا ہے۔
انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ علاقائی سلامتی کو بیرونی طاقتوں کے بجائے اپنے باہمی تعاون اور خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 25 جون، 2026 کو 04:30 AM
آخری تدوین: 25 جون، 2026



