وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

نیویارک میں یہودیوں کا اسرائیل اور جبری فوجی بھرتی کے خلاف احتجاج

W
Web Desk
24 جون، 2026
نیویارک میں یہودیوں کا اسرائیل اور جبری فوجی بھرتی کے خلاف احتجاج

آرتھوڈوکس یہودیوں نے نیویارک شہر میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستِ اسرائیل، اس کی جاری فوجی کارروائیوں اور مذہبی یہودیوں کی مبینہ جبری فوجی بھرتی کے خلاف شدید احتجاج کیا

(نیویارک ) یہ احتجاج رابینیکل الائنس آف یو ایس اے کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں اینٹی صہیونی آرتھوڈوکس یہودیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اسرائیلی حکومت کی فوجی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر فوجی خدمت سے انکار کرنے والے یہودیوں کو دباؤ، گرفتاریوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں اینٹی صہیونی مذہبی یہودی برادریوں کی مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جا رہا ہے اور فوجی خدمت سے انکار کرنے والوں کو مختلف قسم کے سرکاری دباؤ کا سامنا ہے۔

مظاہرے کے ترجمان ربی ناحم میئر نے کہا کہ مذہبی عقائد کے برخلاف یہودیوں کو فوج میں شامل ہونے پر مجبور کرنا بنیادی مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا، "مذہبی عقائد کے خلاف یہودیوں کو فوجی خدمت پر مجبور کرنا آزادیٔ مذہب کی خلاف ورزی ہے، جبکہ احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنانا آزادیٔ اظہار پر حملے کے مترادف ہے۔"

ربی میئر نے مزید کہا کہ روایتی یہودی تعلیمات کے مطابق یہودیوں کو طاقت کے ذریعے سیاسی اقتدار قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور ان کے بقول جدید ریاستِ اسرائیل کا قیام ان مذہبی اصولوں سے متصادم ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں بہت سے یہودی صہیونیت کی مخالفت کرتے ہیں اور اسرائیلی فوج میں شرکت کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت دنیا بھر کی تمام یہودی برادریوں کی نمائندہ نہیں ہے۔

مظاہرے کے دوران مقررین نے یہودیت اور صہیونیت کے درمیان فرق پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودیت ایک مذہب ہے جو خدا کی عبادت اور امن کے اصولوں پر مبنی ہے، جبکہ صہیونیت ایک سیاسی نظریہ ہے جو قوم پرستی پر استوار ہے۔

مظاہرین نے اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور یہودی بستیوں کی توسیع کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں امن اور مفاہمت کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

احتجاج کے منتظمین نے اسرائیل میں رہنے والی اینٹی صہیونی یہودی برادریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی مذہبی آزادیوں اور اپنے عقائد پر عمل کرنے کے حق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے مقدس سرزمین میں امن، انصاف اور تشدد کے خاتمے کے لیے دعائیں کیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں تمام لوگ امن، وقار اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 24 جون، 2026 کو 03:39 PM

آخری تدوین: 24 جون، 2026

متعلقہ مضامین