ایران جنگ جلد ختم ہوگی، تیل کی قیمتیں مزید کم ہوں گی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ جلد ختم ہونے والی ہے اور تیل کی قیمتیں پہلے سے بھی نچلی سطح پر آ جائیں گی۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات میں بہت اچھی پیشرفت ہو رہی ہے اور ایران زیادہ دیر تک امریکا کے سامنے نہیں ٹک سکے گا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہونے والی ہے اور اس کے بعد تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے بھی نیچے آنے کی توقع ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل ہیں اور بات چیت میں ’’بہت اچھی پیشرفت‘‘ ہو رہی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران زیادہ دیر تک امریکا کے سامنے نہیں ٹک سکے گا۔ امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جنگ جلد اختتام پذیر ہوگی اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔
امریکی اسلحہ ذخائر متاثر ہونے کا اعتراف
صدر ٹرمپ نے جنگ کے دوران امریکی اسلحے کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کا بھی اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری جنگ کے باعث امریکا کے اسلحے کے ذخائر متاثر ہوئے ہیں۔
### امریکا ایران معاہدہ جلد متوقع؟
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آج یا کل معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت 30 سے 60 روز کی جنگ بندی کی جا سکتی ہے، جبکہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شرط بھی شامل ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈیوں کو ریلیف کی امید
امریکی وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہونے کی صورت میں خطے میں کشیدگی کم ہوگی اور عالمی مارکیٹ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مزید مذاکرات اور معاملات کو آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی آنی چاہیے۔
اگر جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی پر اتفاق ہوجاتا ہے تو عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ کم ہونے اور قیمتوں میں کمی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 اگست، 2026 کو 06:20 AM
آخری تدوین: 8 اگست، 2026



