کراچی: قائد آباد میں 3 سالہ بچی کا لرزہ خیز قتل، زیادتی اور مزاحمت کے شواہد مل گئے، ڈی این اے

کراچی کے علاقے قائد آباد سے ملنے والی 3 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل۔ پولیس کو کپڑوں سے انسانی بال اور ڈی این اے کے نمونے موصول، قریبی افراد سمیت متعدد مشتبہ ملزمان حراست میں لے لیے گئے
(کراچی ) صوبائی دارالحکومت کے علاقے قائد آباد سے لاپتہ ہونے والی 3 سالہ معصوم بچی کی بوری بند لاش ملنے کے کیس میں سنسنی خیز اور افسوسناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ابتدائی تفتیش کے دوران بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل میں ایک سے زائد افراد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ: ڈی این اے اور مزاحمت کے نشانات
تفتیشی حکام کے مطابق قائد آباد سے ملنے والی بچی کی تشدد زدہ لاش کے پوسٹ مارٹم کے دوران اہم ترین شواہد ہاتھ آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ:
بچی کے کپڑوں سے مختلف انسانی بال اور اہم ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔
معصوم بچی کے جسم کے مختلف حصوں پر شدید مزاحمت کے نشانات پائے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔
شواہد کی روشنی میں پولیس کو قوی شبہ ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ایک سے زیادہ افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔
کسی قریبی شخص کے ملوث ہونے کا شبہ، متعدد افراد حراست میں
پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ مقتولہ بچی گزشتہ روز لاپتہ ہوئی تھی، جس کی بوری بند لاش بعد میں اسی کے گھر کے باہر سے برآمد ہوئی۔
تفتیشی حکام کا بیان:
"جائے وقوعہ اور لاش ملنے کی جگہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شدید شبہ ہے کہ اس قتل میں کوئی قریبی شخص یا پڑوسی ملوث ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے سے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔"
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 25 جون، 2026 کو 07:48 AM
آخری تدوین: 25 جون، 2026



