وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

امریکی حملوں کے بعد ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ، کشیدگی میں اضافہ

W
Web Desk
6 جون، 2026
امریکی حملوں کے بعد ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ، کشیدگی میں اضافہ

امریکا نے گورک اور جزیرہ قشم میں ایرانی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا اعلان کیا ہے۔ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی

تہران / واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کارروائی حالیہ امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجود امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے بھی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب کویتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود کی جانب آنے والے متعدد ڈرونز اور میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ امریکی فوج نے بھی چار ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایرانی ڈرونز آبنائے ہرمز کی سمت بڑھ رہے تھے، جنہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا گیا۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں ایران کے ساحلی ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا۔

بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈے کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا، تاہم سینٹ کام کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر کے مطابق تمام ایرانی میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے اور کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

جنرل بریڈ کوپر نے کہا کہ بحرین میں تعینات امریکی افواج محفوظ ہیں اور خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سے قبل امریکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کے گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ریڈار تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی خطے میں امریکی مفادات اور بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے اور اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 6 جون، 2026 کو 07:14 AM

آخری تدوین: 6 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع
امریکا

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع

سوئس وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ دستخطی تقریب کا انعقاد وسطی سوئٹزرلینڈ میں واقع جھیل لوسرن کے قریب پہاڑی مقام برگن اسٹاک میں کیا جائے گا۔ یہ مقام تین اطراف سے پانی میں گھرا ہونے کی وجہ سے سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے

Web Desk16 جون، 2026
گلگت بلتستان کے 4 نو منتخب آزاد اراکین اسمبلی کا استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان
پاکستان

گلگت بلتستان کے 4 نو منتخب آزاد اراکین اسمبلی کا استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان

گلگت بلتستان اسمبلی میں بڑی سیاسی پیش رفت، 4 نو منتخب آزاد اراکین اسمبلی نے عبدالعلیم خان سے ملاقات کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ آئی پی پی نے خطے میں ترقی، سیاحت، تعلیم، صحت اور روزگار کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا

Web Desk16 جون، 2026
ایم او یو میں واضح کیا گیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا، ایران ڈیل کانگریس کو بھیجیں گے: ٹرمپ
امریکا

ایم او یو میں واضح کیا گیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا، ایران ڈیل کانگریس کو بھیجیں گے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایم او یو میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے ایران ڈیل کا متن جاری کرنے، معاہدہ کانگریس کو بھیجنے اور جمعہ تک آبنائے ہرمز کھولنے کی امید ظاہر کی

Web Desk16 جون، 2026