ایران کا کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ، متعدد میزائل مار گرانے کے اعلانات

ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات اور اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ متعلقہ ممالک نے متعدد میزائل اور ڈرون مار گرانے اور دفاعی اقدامات کی تصدیق کی۔ خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے
ایران نے امریکا کی جانب سے مسلسل ساتویں رات کیے گئے حملوں کے جواب میں کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں متعدد اہداف کو نقصان پہنچایا گیا، تاہم متعلقہ ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام کی کامیابی اور کئی میزائل و ڈرون تباہ کرنے کی اطلاعات جاری کی ہیں۔
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ شمالی بحرِ ہند میں موجود ایک امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل سے حملہ کیا گیا۔ فوجی حکام کے مطابق اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران مزید سخت جوابی اقدامات کرے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے بھی ایک بیان میں کہا کہ بحرین میں امریکی ڈرونز کے ایک مبینہ ڈپو اور مصنوعی ذہانت کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب کویت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا بروقت سراغ لگا کر انہیں فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
کویتی فوج کے مطابق ڈرون حملوں کے دوران چند فوجی مراکز اور کیمپ بھی نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں زمینی افواج کے متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
کویتی فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بھی نقصان پہنچا، جہاں آگ لگنے سے پلانٹ کے بعض حصے اور بجلی پیدا کرنے والے یونٹس متاثر ہوئے۔
ادھر اردن کی فوج نے اعلان کیا کہ آج صبح سویرے ایران سے آنے والے 10 میزائلوں کو ملکی فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کر دیا۔ فوج کے مطابق کارروائی کا مقصد ملکی خودمختاری اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔
اردنی حکام نے بتایا کہ میزائلوں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جبکہ رائل انجینیئرز کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں سے میزائلوں کا ملبہ ہٹانے اور مقامات کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔
اس دوران بحرین میں چند گھنٹوں کے اندر تیسری مرتبہ فضائی حملے کے ہنگامی سائرن بجائے گئے۔ حکام نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی۔
خطے میں حالیہ پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 18 جولائی، 2026 کو 05:11 AM
آخری تدوین: 18 جولائی، 2026



