ایران کا بڑا دعویٰ: امریکہ 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، تیل پر پابندی ختم

ایران کے مذاکراتی سربراہ باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ سوئٹزر لینڈ مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی، تیل پر پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں رابطہ نظام کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے اور دونوں فریقین نے متعدد حساس علاقائی اور اقتصادی امور پر اتفاق رائے پیدا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے ایک مشترکہ رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد کسی بھی قسم کی غلط فہمی، تصادم یا کشیدگی سے بچنا اور عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران لبنان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور استحکام کی ضمانت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی عمل کے ذریعے لبنان سے متعلق مسائل کو مستقل اور حتمی حل کی جانب لے جایا جا سکے گا۔
ایرانی مذاکرات کار نے کہا کہ تہران اپنے مقاصد کے حصول تک مذاکراتی عمل جاری رکھے گا اور کسی مرحلے پر سفارتکاری کا راستہ ترک نہیں کرے گا۔ ان کے بقول صرف فوجی کامیابیاں دیرپا نتائج کی ضمانت نہیں ہوتیں، بلکہ ان کامیابیوں کے ثمرات سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی مکمل طور پر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ پیش رفت خطے میں استحکام، اقتصادی تعاون اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں مزید عملی اقدامات اور تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 23 جون، 2026 کو 03:54 AM
آخری تدوین: 23 جون، 2026



