پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کی گہری نظر

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھارت کا اہم ردعمل سامنے آگیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ بھارت مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس پیش رفت کا قریب سے جائزہ لیا جا رہا ہے
نئی دہلی: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھارت کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ نئی دہلی اس پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر گہری نظر ہے۔
رندھیر جیسوال کا کہنا تھا کہ بھارت اس پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور اس حوالے سے میڈیا کو مزید معلومات سے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
مکہ میں تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط
واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والے حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں قصر الصفا میں منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب کی جانب سے ولی عہد محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
معاہدے کو ’’مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ‘‘ کا نام
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس دفاعی معاہدے کو مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔
معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔
تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو خطے میں دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی نگرانی کے اعلان کے بعد اس کے علاقائی اثرات بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 اگست، 2026 کو 05:44 AM
آخری تدوین: 8 اگست، 2026



