ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دوٹوک مؤقف، دباؤ میں آکر ایران سر نہیں جھکائے گا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو شکست تسلیم کرنے یا اطاعت پر مجبور کرنے کے لیے کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ صدر پزشکیان کے مطابق ایران جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا
تہران: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو شکست تسلیم کرنے یا اطاعت پر مجبور کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کا خواہاں ہے، تاہم اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
صدر پزشکیان نے اپنی صدارت کے دو سال مکمل ہونے پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب مذاکرات کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں تو جنگ کی ضرورت کیوں پیش آئے؟ ان کے مطابق ایران مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور بعض پابندیوں میں بھی نرمی کروائی گئی۔
مذاکراتی ٹیم میں تمام اداروں کی نمائندگی
ایرانی صدر نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مذاکراتی ٹیم میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تھی، جسے قبول کر لیا گیا ہے۔ عدلیہ، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔
مسعود پزشکیان کے مطابق مذاکراتی ٹیم میں مختلف ریاستی اداروں کی نمائندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اپنے مؤقف پر متحد ہے۔
’’ہم زبردستی نہیں جھکیں گے‘‘
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے حقوق کے دفاع کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی اور دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو زبردستی جھکانے یا اطاعت پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی تو ایران مزاحمت کرے گا، پیچھے نہیں ہٹے گا اور سر نہیں جھکائے گا۔
پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ مبینہ جارحیت کے دوران ایرانی فوجی ردعمل کو دفاعی اقدام قرار دیا اور مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہا۔
امریکا اور اسرائیل پر خلیجی ممالک کو متحد کرنے کا الزام
ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے خلاف خلیجِ فارس کے ممالک کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی جانب سے اس عمل کو روکنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور خطے میں مسلم اتحاد کو اہمیت دیتا ہے۔
شیعہ سنی اختلافات پر بھی اہم بیان
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی بنیاد نہیں سمجھتا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور یہ ان کا حقیقی یقین ہے، محض سیاسی نعرہ نہیں۔
ایران کے علاقائی عزائم کی تردید
ایرانی صدر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران خطے میں توسیع پسندی کا خواہاں ہے یا ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے، اس کی سرزمین پر قبضہ کرنے یا اپنی سرحدیں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ پزشکیان نے اسرائیل پر علاقائی توسیع کے عزائم رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ ہمسایہ کی حیثیت سے پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 اگست، 2026 کو 05:40 AM
آخری تدوین: 8 اگست، 2026



