فوج سے مکمل ہم آہنگی، استعفیٰ نہیں دوں گا، ڈٹا رہوں گا: ایرانی صدر مسعود پزشکیان


ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے استعفیٰ دینے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈٹے رہیں گے اور ایرانی فوج کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں
تہران: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور موجودہ حالات میں اپنی ذمہ داریاں پوری عزم کے ساتھ نبھاتے رہیں گے، جبکہ ایرانی فوج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور رابطے میں ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ نے صدر مسعود پزشکیان کے ایک ویڈیو بیان کے حصے نشر کیے ہیں، جن میں انہوں نے کہا کہ وہ ہرگز استعفیٰ نہیں دیں گے بلکہ موجودہ صورتحال میں ثابت قدم رہیں گے۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ حکومت اور مسلح افواج کے درمیان مکمل رابطہ اور ہم آہنگی موجود ہے، جبکہ قومی سلامتی اور ملک کے دفاع کے لیے تمام ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق موجودہ صورتحال، جنگ سے متعلق حالیہ پیش رفت اور دیگر اہم معاملات پر صدر پزشکیان کی مکمل ویڈیو اور تحریری بیان جلد جاری کیا جائے گا۔
ایرانی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی سرحدوں، خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، تاہم وہ خطے میں جنگ کو مزید وسعت دینے کا خواہاں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی مضبوط اور متحد معاشرت کی تشکیل ضروری ہے جہاں دشمن کو مداخلت، انتشار پھیلانے یا اندرونی اختلافات پیدا کرنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم تہران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی باضابطہ بات چیت طے نہیں کی گئی۔
ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور دفاعی تیاری ہی موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کی بنیادی ضمانت ہیں۔

شائع ہوا: 4 اگست، 2026 کو 12:44 PM
آخری تدوین: 4 اگست، 2026



