لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے، ایران کا انتباہ

ایرانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات روک دے گا، جبکہ ایرانی قیادت نے فوجی ردعمل کی بھی دھمکی دی ہے
(تہران) ایرانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے تو ایران امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات معطل کر دے گا۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اپنے قومی حقوق اور عوامی مفادات کے مکمل تحفظ کے بغیر امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں مزاحمتی محور کو ردعمل دینے پر مجبور کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر لبنان پر اسرائیلی حملے نہ رکے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ابراہیم عزیزی نے اسرائیلی حکومت اور خطے میں موجود امریکی افواج کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے دی جانے والی تنبیہ محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ پیغام ہے، اور ایران کسی بھی ممکنہ فوجی ردعمل کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایرانی رہنماؤں کے حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران، اسرائیل و امریکا کے درمیان تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 2 جون، 2026 کو 06:43 AM
آخری تدوین: 2 جون، 2026



