وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ایران کا پاکستان میں امریکہ سے مذاکرات پر غور

W
Web Desk
20 اپریل، 2026
ایران کا پاکستان میں امریکہ سے مذاکرات پر غور

پاکستان کی جانب سے امریکی ناکہ بندی ختم کروانے کی کوششیں جاری ہیں، جسے ایران کی مذاکرات میں شرکت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے

(واشنگٹن ڈی سی / رائٹرز ) ایران نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات میں شرکت پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم امریکی بندرگاہی ناکہ بندی کے باعث صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران اس معاملے کا “مثبت جائزہ” لے رہا ہے، لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکی ناکہ بندی ختم کروانے کی کوششیں جاری ہیں، جسے ایران کی مذاکرات میں شرکت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ چیف ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس مسئلے سے آگاہ کیا، جس پر امریکی صدر نے اس پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان روانگی سے متعلق خبروں کی تردید بھی سامنے آئی ہے، اور ذرائع کے مطابق وہ تاحال امریکہ میں ہی موجود ہیں۔

دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس میں توسیع کے حوالے سے انہوں نے غیر یقینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی برقرار رہ سکتی ہے۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب امریکی فوج نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو روک کر اس پر قبضہ کر لیا۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز ممکنہ طور پر دوہرے استعمال کے سامان لے جا رہا تھا، جبکہ ایران نے اس اقدام کو “مسلح قزاقی” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں تقریباً 20 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ تاحال واضح نہیں کہ مذاکرات حقیقت میں ہوں گے یا نہیں۔

یورپی اتحادیوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ جلد بازی میں ایک عارضی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے بعد مزید پیچیدہ مذاکرات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی نظریں اب ممکنہ مذاکرات اور جنگ بندی کے مستقبل پر مرکوز ہیں۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 20 اپریل، 2026 کو 04:04 PM

آخری تدوین: 20 اپریل، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ کیلیفورنیا میں تباہ، عملے کے تمام 8 افراد ہلاک
امریکا

امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ کیلیفورنیا میں تباہ، عملے کے تمام 8 افراد ہلاک

بی-52 اسٹریٹوفورٹریس امریکی فضائیہ کے اسٹریٹجک بمبار بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہ جوہری اور روایتی دونوں اقسام کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بغیر ایندھن بھرے 8 ہزار میل سے زائد فاصلے تک پرواز کر سکتا ہے

Web Desk16 جون، 2026
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، ٹرمپ کا اعلان، تیل بردار جہاز دوبارہ روانہ
امریکا

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، ٹرمپ کا اعلان، تیل بردار جہاز دوبارہ روانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور تیل بردار جہاز محفوظ راستوں سے اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہیں۔ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

Web Desk15 جون، 2026
امریکی سینیٹر لینزی گراہم کا ایران معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کا مطالبہ
تازہ ترین

امریکی سینیٹر لینزی گراہم کا ایران معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کا مطالبہ

امریکی سینیٹر لینزی گراہم نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے کو کانگریس کے سامنے منظوری اور ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے۔ انہوں نے معاہدے کی مختلف تشریحات پر بھی تشویش ظاہر کی

Web Desk15 جون، 2026