جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر مذاکرات سے مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات، وائٹ ہاؤس کی سخت تردید

ڈراپ سائٹ نیوز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ایرانی عہدیدار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو مبینہ خفیہ پیغام بھیجا، جس میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر مذاکراتی عمل سے مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا
(واشنگٹن) امریکی ویب سائٹ ڈراپ سائٹ نیوز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ایرانی عہدیدار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو مذاکرات سے متعلق ایک مبینہ خفیہ پیغام بھجوایا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف پر مذاکراتی عمل کو مبینہ طور پر مالی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ پیغام جون میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک ثالث کے ذریعے جے ڈی وینس تک پہنچایا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے خبردار کیا تھا کہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کی مذاکراتی عمل میں موجودگی 17 جون کے فریم ورک کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں ایک نام ظاہر نہ کرنے والے ایرانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تہران کو خدشہ تھا کہ دونوں شخصیات مذاکرات سے حاصل ہونے والی اندرونی معلومات کو مالیاتی منڈیوں میں ممکنہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔
اسی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کو تشویش تھی کہ جیرڈ کشنر مبینہ طور پر مذاکرات سے متعلق معلومات اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو تک پہنچا رہے تھے۔ تاہم، ایک امریکی عہدیدار نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی پیغام امریکی حکومت کو کبھی موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ ایران کے مؤقف کی تائید کرتی ہے اور اس میں کیے گئے دعوے بے بنیاد اور ناقابلِ تصدیق ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 16 جولائی، 2026 کو 03:38 AM
آخری تدوین: 16 جولائی، 2026



