ایران کے معاملے پر امریکا اور چین آمنے سامنے، فوجی و جوہری سامان کی فراہمی پر سنگین الزامات

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان سخت لفظی محاذ آرائی سامنے آئی۔ امریکا نے چین پر ایران اور یمنی حوثیوں کو فوجی، جوہری استعمال کا سازوسامان اور سیٹلائٹ امیجری فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ چین نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے امریکا پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا
(نیویارک) ایران کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا اور چین کے درمیان سخت سفارتی کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔
امریکا کے اقوام متحدہ میں مندوب مائیک والٹز نے الزام عائد کیا کہ چین ایران اور یمنی حوثی گروپ کو فوجی اور جوہری استعمال کے سازوسامان کی فراہمی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اور حوثیوں کو سیٹلائٹ امیجری بھی فراہم کی جا رہی ہے، جس سے خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔ چینی حکام کا کہنا تھا کہ بیجنگ فوجی اور دوہرے استعمال (Dual-Use) کی برآمدات پر سخت کنٹرول رکھتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔
چین نے اپنے بیان میں امریکا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی حملوں نے عالمی امن و سلامتی کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق امریکا کو مشرق وسطیٰ میں نئے تنازعات اور بدامنی پیدا کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری خطے میں بڑھتے ہوئے تنازع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 16 جولائی، 2026 کو 04:00 AM
آخری تدوین: 16 جولائی، 2026



