سوئٹزرلینڈ مذاکرات مثبت، ایران کے منجمد فنڈز فوری بحال نہیں ہوں گے: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران سے مذاکرات نتیجہ خیز رہے، تاہم ایران کے منجمد فنڈز اس وقت تک بحال نہیں ہوں گے جب تک آئی اے ای اے معائنوں اور دیگر اہم معاملات پر پیش رفت نہیں ہوتی
سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز رہی، تاہم ایران کے منجمد فنڈز فوری طور پر بحال نہیں کیے جائیں گے۔
سوئٹزرلینڈ سے امریکا روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے، لیکن منجمد فنڈز کی بحالی بعض اہم شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایسا مؤثر طریقہ کار تجویز کیا ہے جس کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران کے منجمد مالی وسائل کا غلط استعمال نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی اس عمل کا بنیادی حصہ ہوں گی۔
جے ڈی وینس کے مطابق ایران کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو مکمل رسائی فراہم کرنا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کے معائنے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کا ایک اہم جزو ہیں اور ان پر پیش رفت کے بغیر مزید اقدامات مشکل ہوں گے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران سے متعلق ابتدائی معاہدے اور مذاکراتی پیش رفت پر خلیجی اتحادی ممالک کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جلد بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق مارکو روبیو بحرین میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جہاں امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران کے ساتھ معاہدے اور علاقائی استحکام سے متعلق تفصیلی مشاورت متوقع ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقوں کو متعدد حساس معاملات پر مزید اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 23 جون، 2026 کو 03:39 AM
آخری تدوین: 23 جون، 2026



