سعودی عرب سے جوہری معاہدہ ابراہیم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری ابراہیم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہوگی۔ ٹرمپ نے یورینیئم افزودگی کی اجازت نہ دینے اور حوثیوں کے حملوں پر ایران کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بھی وارننگ دی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس بات سے مشروط ہوگی کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈ میں شامل ہو، جبکہ مملکت کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد تک محدود ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سول جوہری پروگراموں کی مخالفت نہیں کرتا اور کئی ممالک، جن میں ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ریاستیں شامل ہیں، ایسے پروگرام چلا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں یورینیئم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی اور تمام تعاون بین الاقوامی حفاظتی اصولوں کے مطابق ہوگا۔
ایک اور بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثی گروپ اور ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا نے حوثیوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، تاہم اب دوبارہ حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حوثیوں کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو امریکا اس کا ذمہ دار ایران کو قرار دے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ایران کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ حوثیوں کو بھی اپنے اقدامات کی قیمت چکانا ہوگی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 23 جولائی، 2026 کو 01:15 PM
آخری تدوین: 23 جولائی، 2026



