پاکستان کی امریکہ۔ایران مذاکرات میں ثالثی کی کوششیں دیرپا امن کا باعث بن سکتی ہیں، خورشید محمود قصوری

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان فعال کردار ادا کر رہا ہے، اور امید ہے کہ جاری سفارتی کوششیں ایک پائیدار امن معاہدے کی صورت اختیار کریں گی۔
(واشنگٹن) واشنگٹن میں سابق وزیر خارجہ کے اعزاز میں فوزیہ قصوری کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قصوری نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک داخلی اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم امید کر رہے تھے کہ جلد ہی امن سے متعلق کوئی اعلان سامنے آئے گا، لیکن بدقسمتی سے ایسا ابھی تک نہیں ہو سکا۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ باضابطہ معاہدے کی عدم موجودگی کے باوجود موجودہ جنگ بندی کھلے تصادم کے مقابلے میں بہتر ہے کیونکہ اس سے جانی نقصان میں نمایاں کمی آئی ہے اور مزید کشیدگی کو روکا گیا ہے۔

خورشید قصوری نے کہا کہ امریکہ اور ایران دونوں کے پاس مذاکرات جاری رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آئندہ انتخابات کے تناظر میں داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے اور وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ امریکی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں، جبکہ ایران بھی یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اسے شکست نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں امریکہ اور ایران کے پاس مذاکرات جاری رکھنے کے سوا کوئی حقیقی متبادل موجود نہیں۔‘‘
سابق وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ مثبت اور دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد تاریخی طور پر دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوشش کرتا رہا ہے اور موجودہ حکومت بھی اسی کردار کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

قصوری نے کہا، ’’دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ تعمیری انداز میں بات چیت کر سکتے ہیں، اور پاکستان امن کی کوششوں میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں طویل عدم استحکام عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً توانائی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں۔ ان کے مطابق تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی میں خلل انسانی بحرانوں کو مزید گہرا کر سکتا ہے اور کمزور ممالک میں بھوک اور غذائی قلت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

خورشید قصوری نے کہا کہ ’’جنگوں اور تنازعات کا سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو بہت سے ممالک کے لیے اس کے نتائج تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر مفاہمت کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ حالیہ مذاکرات میں جنگ بندی کو توسیع دینے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت شامل رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کار جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع کے ایک ابتدائی فریم ورک پر متفق ہوئے ہیں، تاہم اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ دونوں جانب کے حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں نرمی، یورینیم افزودگی اور طویل المدتی سیکیورٹی انتظامات جیسے معاملات پر اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔


Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 31 مئی، 2026 کو 04:55 PM
آخری تدوین: 1 جون، 2026



