لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 50 سے زائد طبی اہلکار ہلاک

اسرائیل ایک منصوبے کے تحت لبنان میں طبی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہا ہے تاہم اسرائیلی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے
امریکی پبلک ریڈیو (این پی آر) کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے دوران 50 سے زائد طبی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کو باقاعدہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جنوبی لبنان کے علاقے مجدل زون میں 9 مارچ کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی ریڈ کراس کے رضاکار پیرا میڈک یوسف عساف ہلاک ہو گئے۔ ان کی تدفین میں سینکڑوں امدادی کارکنوں نے شرکت کی۔
لبنان کی حکومت کے مطابق موجودہ اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 1400 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 54 طبی کارکن شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امدادی ٹیموں کو نشانہ بنا رہا ہے ، تاہم اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
اسرائیل کو پیشگی اطلاع کا طریقہ کار
لبنانی ریڈ کراس کے مطابق جب بھی ایمبولینسز کسی حملے کے مقام پر پہنچتی ہیں تو وہ اپنی لوکیشن اقوام متحدہ کے امن دستوں کو فراہم کرتی ہیں، جو آگے اسرائیل کو مطلع کرتے ہیں۔
اسی طریقہ کار پر 9 مارچ کو بھی عمل کیا گیا، تاہم یوسف عساف جب زخمیوں کی مدد کے لیے گاڑی سے اترے تو ایک اور حملے میں نشانہ بن گئے۔
ریڈ کراس کے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر الیکسی نہمے نے بتایا کہ انہوں نے اس واقعے کے بعد اسرائیل کو شکایتی پیغام بھیجا، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اسرائیلی مؤقف
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس دن ایک "حزب اللہ کے زیر استعمال عمارت" کو نشانہ بنایا گیا تھا اور حملے کے وقت انہیں ریڈ کراس اہلکاروں کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔ فوج کے مطابق طبی اہلکاروں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔
طبی اہلکاروں پر حملوں کا رجحان
لبنان کے سابق وزیر صحت ڈاکٹر فراس ابیاد کے مطابق، "جب 24 گھنٹوں میں 10 امدادی کارکن مارے جائیں تو اسے حادثہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔"
28 اور 29 مارچ کے دوران صرف 24 گھنٹوں میں 10 طبی کارکن اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے، جس پر لبنان کے موجودہ وزیر صحت راکان ناصرالدین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکایت درج کرانے کا اعلان کیا ہے۔
انسانی حقوق تنظیموں کا ردعمل
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق محقق رمزی قیس کے مطابق ماضی میں بھی غزہ اور لبنان میں طبی عملے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسرائیل پر غیر قانونی حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی مراکز اور عملے کو بغیر کسی احتساب کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے فوری طور پر طبی تنصیبات پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
"ڈبل ٹیپ" حملوں کا دعویٰ
بیروت میں اسلامی ہیلتھ اتھارٹی کے عہدیدار محمد فرحات کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج بعض اوقات پہلے ایک ہدف کو نشانہ بناتی ہیں اور پھر امدادی ٹیموں کے پہنچنے کا انتظار کر کے دوبارہ حملہ کرتی ہیں، جسے "ڈبل ٹیپ" کہا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے اس پالیسی کی تردید کی ہے، تاہم یہ تسلیم کیا ہے کہ بعض اوقات ہدف مکمل نہ ہونے پر دوسرا حملہ کیا جاتا ہے۔
امدادی کارکنوں کی مشکلات
فرحات کے مطابق موجودہ حالات میں امدادی کارکنوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے اور اب فوری طور پر بڑی ٹیمیں بھیجنے کے بجائے محدود افراد کو پہلے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، "جب بچوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں تو انسان سوچ نہیں پاتا، مگر ہم کوشش کرتے ہیں کہ اپنی ٹیم کو کم سے کم خطرے میں رکھیں۔"
انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ان کی ٹیمیں کسی قسم کے ہتھیار منتقل کرتی ہیں اور کہا کہ تمام طبی کارکن، چاہے ان کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو، بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ کے مستحق ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 اپریل، 2026 کو 11:41 PM
آخری تدوین: 5 اپریل، 2026



