پاک کرغز تجارتی حجم 2 سال میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف، مختلف شعبوں میں اہم معاہدے

وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ کرغزستان کے دوران پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تجارتی حجم اگلے دو برس میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر لیا۔ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، سائنس، ماحولیات اور ٹرانزٹ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا
بشکیک: پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے باہمی تجارتی حجم کو اگلے دو برس کے دوران 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر لیا۔
بشکیک میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد کرغزستان کے صدر صادِر ژاپاروف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک تجارتی حجم میں اضافے کے لیے قوانین اور طریقہ کار کو مزید آسان بنائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تجارتی طریقہ کار کو بہتر بنانے، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دینے اور صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی رابطوں کے فروغ کے لیے پاکستان اور کرغزستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، جبکہ اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا ایک اہم محور رہا ہے۔

وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر صادِر ژاپاروف کی شاندار میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب ایس سی او سربراہ اجلاس کے انعقاد پر جمہوریہ کرغزستان کی قیادت تحسین کی مستحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کا اہم آغاز ہیں۔
اس موقع پر کرغزستان کے صدر صادِر ژاپاروف نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
کرغز صدر کا کہنا تھا کہ کرغزستان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے اور دونوں ممالک باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں مزید پیش رفت کر سکتے ہیں۔
مختلف شعبوں میں معاہدوں پر دستخط
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد اور کرغز نیشنل انسٹیٹیوٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ تجارت سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ ہوا۔
پاکستان اور کرغزستان کی وزارت خارجہ کے درمیان تعاون کے پروگرام سے متعلق دستاویز کا تبادلہ کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کی وزارت تعلیم کے درمیان تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر بھی اتفاق ہوا۔
دونوں ممالک نے منشیات، نشہ آور اشیا اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کرغزستان کی وزارت صحت کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا، جبکہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون کا معاہدہ بھی طے پا گیا۔
اس کے علاوہ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ لاہور اور کرغزستان کے شہر اوش کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ بھی طے پایا۔
اس سے قبل صدارتی محل پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا ریڈ کارپٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدارتی محل آمد پر پاکستان اور کرغزستان کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ کرغزستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو سلامی بھی پیش کی۔
شائع ہوا: 2 ستمبر، 2026 کو 01:31 PM
آخری تدوین: 2 ستمبر، 2026



