وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکا میں پاکستانی ڈاکٹر کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کی کاروائی شروع 

W
Web Desk
25 اپریل، 2026
امریکا میں پاکستانی ڈاکٹر کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کی کاروائی شروع 

پاکستانی ڈاکٹر حسن شرجیل خان نابالغ بچی کے جنسی استحصال کے جرم میں 17 سال کی قید کی سزا کاٹ رہا ہے 

 ( نیو یارک / مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی محکمہ انصاف نے نابالغ بچی کے جنسی استحصال کے جرم میں 17 سال قید کی سزا کاٹنے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹر کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سنگین جرائم کے مرتکب غیر ملکی شہریوں کی شہریت ختم کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔

سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک میں اٹارنی جے کلیٹن کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ 38 سالہ حسن شرجیل خان نے 2013 میں غیر قانونی طور پر امریکی شہریت حاصل کی۔ استغاثہ کے مطابق خان نے نیچرلائزیشن کے عمل کے دوران 11 سالہ لڑکی سے متعلق اپنے مجرمانہ فعل کو جان بوجھ کر چھپایا۔

مقدمے کی بنیاد  

عدالتی دستاویزات کے مطابق خان نے اگست 2012 میں شہریت کے لیے درخواست دی۔ اس سے چار ماہ پہلے وہ نیویارک سے لندن گیا تھا جہاں اس نے 15 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ خان نے اس لڑکی کو 11 سال کی عمر سے آن لائن گرومنگ کا نشانہ بنایا تھا۔

حکام کے مطابق خان نے کئی برس تک لڑکی کو جنسی تصاویر بھیجنے اور لائیو ویڈیو چیٹس کے ذریعے جنسی حرکات پر مجبور کیا۔ برطانیہ کے دورے میں اس نے کئی دن تک متعدد بار نابالغ بچی کے ساتھ جنسی حرکات کیں۔

خان کو ستمبر 2015 میں گرفتار کیا گیا۔ یہ گرفتاری اس کی شہریت ملنے کے دو سال بعد ہوئی۔ 2016 میں اس نے نابالغ کو غیر قانونی جنسی سرگرمی پر اکسانے کا جرم قبول کیا اور عدالت نے اسے 17 سال قید کی سزا سنائی۔

شہریت منسوخی کی قانونی وجہ  

محکمہ انصاف کا مؤقف ہے کہ خان نے شہریت کے لیے درکار "اچھے اخلاقی کردار" کی شرط پوری نہیں کی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اس نے امریکی شہریت حاصل کرتے وقت ایسا جرم چھپایا جو "اخلاقی پستی" کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر اس جرم کا علم ہوتا تو اسے شہریت نہ ملتی۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بریٹ شومیٹ نے بیان میں کہا کہ نیچرلائزیشن اور امریکی شہریت جنسی جرائم کے مرتکب افراد کو سزا سے نہیں بچا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص شہریت لیتے وقت سنگین جرائم چھپاتا ہے تو حکومت اس کی شہریت منسوخ کر دے گی۔

ڈی نیچرلائزیشن مہم میں اضافہ  

گزشتہ جون میں محکمہ انصاف نے ایک میمو جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ جنسی جرائم سمیت 10 اقسام کے جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف ڈی نیچرلائزیشن کو ترجیح دی جائے گی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اب تک تقریباً 384 ڈی نیچرلائزیشن کیسز دائر کر چکی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 1990 سے 2018 تک صرف 305 مقدمات دائر ہوئے تھے۔

محکمہ انصاف کے ترجمان میتھیو ٹریگیسر نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کی قیادت میں محکمہ انصاف تاریخ میں ڈی نیچرلائزیشن کے سب سے زیادہ ریفرلز پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال میں دائر کیے گئے ریفرلز کی تعداد پچھلی انتظامیہ کے چار سال سے زیادہ ہے اور مزید مقدمات آئیں گے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 25 اپریل، 2026 کو 12:35 AM

آخری تدوین: 25 اپریل، 2026

متعلقہ مضامین

امریکا ایران جنگ: ایرانی شہریوں کی ملک بدری کے لیے خفیہ مذاکرات کا انکشاف
امریکا

امریکا ایران جنگ: ایرانی شہریوں کی ملک بدری کے لیے خفیہ مذاکرات کا انکشاف

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے ایرانی حکام سے ملک بدری کے لیے خفیہ مذاکرات کا انکشاف، عدالت نے ایرانی شہریوں کی ڈی پورٹیشن سے قبل نوٹس دینا لازمی قرار دے دیا

محمد نعیم اختر6 نومبر، 2026
جے ڈی وینس کا ایران جنگ ختم کرنے اور اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ
امریکی وسط مدتی انتخابات

جے ڈی وینس کا ایران جنگ ختم کرنے اور اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران جنگ کو ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی وجہ قرار دیتے ہوئے جنگ ختم کرنے، اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی اور مہنگائی کے خاتمے پر توجہ دینے کا مطالبہ کردیا

Web Desk6 نومبر، 2026
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی، ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کا اعلان
امریکا

امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی، ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کا اعلان

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، ٹرمپ انتظامیہ کے احتساب، پالیسیوں کی تحقیقات اور صدارتی اختیارات محدود کرنے کے اعلان نے واشنگٹن میں سیاسی کشیدگی بڑھا دی

Web Desk6 نومبر، 2026