وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران شدید کمزور ہو چکا، مذاکرات میں جلدی ہمیں نہیں ایران کو تھی

W
Web Desk
19 جون، 2026
ٹرمپ کا دعویٰ: ایران شدید کمزور ہو چکا، مذاکرات میں جلدی ہمیں نہیں ایران کو تھی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد ایران شدید کمزور ہو چکا ہے اور مذاکرات کے لیے جلدی واشنگٹن کو نہیں بلکہ تہران کو تھی۔ دوسری جانب ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں اور اسرائیلی وزراء کے بیانات کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں ایران شدید کمزور ہو چکا ہے اور مذاکرات کے لیے جلدی امریکہ کو نہیں بلکہ ایران کو تھی۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اب پہلے جیسی عسکری صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس نہ مؤثر فضائیہ باقی رہی ہے، نہ بحریہ، نہ مضبوط دفاعی نظام اور نہ ہی کوئی دوسری قابلِ ذکر عسکری طاقت موجود ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض ڈیموکریٹ رہنما یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران پہلے سے بہتر حالت میں ہے، جو حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے امریکہ نے کسی قسم کی جلد بازی نہیں دکھائی بلکہ ایران خود جلد از جلد پیش رفت کا خواہاں تھا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ طے شدہ 60 روزہ مدت مکمل کرے گا اور ایران کو کسی قسم کی مالی رعایت یا رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں اور اسرائیلی حکام کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر کے لبنان کو تباہ کرنے سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی عام انتہا پسند شخص کا بیان نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کے ایک اہم عہدیدار کا مؤقف ہے، جو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی موجودہ پالیسی نہ صرف خطے بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے اور اس کا بنیادی مقصد مستقل تنازع اور جنگی ماحول کو برقرار رکھنا ہے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ لبنان کی صورتحال بھی علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 19 جون، 2026 کو 03:04 PM

آخری تدوین: 19 جون، 2026

متعلقہ مضامین

ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی، جنگ محدود معاہدے پر ختم کی گئی
امریکا

ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی، جنگ محدود معاہدے پر ختم کی گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی اور جنگ کو بڑے علاقائی و عالمی بحران سے بچنے کے لیے محدود مفاہمتی معاہدے کے ذریعے ختم کیا گیا۔ ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کردیا

Web Desk19 جون، 2026
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی، خلیج عرب و عمان میں آمدورفت بحال
تازہ ترین

امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی، خلیج عرب و عمان میں آمدورفت بحال

امریکی سینٹکام نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تصدیق کردی۔ خلیج عرب اور خلیج عمان میں بحری آمدورفت بحال ہوگئی جبکہ امریکی بحری جہاز معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے علاقے میں موجود رہیں گے

Web Desk19 جون، 2026
پاکستانی  کمیونٹی  کے ڈے کیئر  میں کروڑوں ڈالرز کے فراڈ میں معروف کمیونٹی شخصیت سمیت آٹھ پاکستانی گرفتار گرفتار
امریکا

پاکستانی کمیونٹی کے ڈے کیئر میں کروڑوں ڈالرز کے فراڈ میں معروف کمیونٹی شخصیت سمیت آٹھ پاکستانی گرفتار گرفتار

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ اسکینڈل کا پردہ چاک ہوگیا ہے، جس میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور کمیونٹی رہنما پرویز صدیقی سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے

Web Desk19 جون، 2026