وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

پاکستانی کمیونٹی کے ڈے کیئر میں کروڑوں ڈالرز کے فراڈ میں معروف کمیونٹی شخصیت سمیت آٹھ پاکستانی گرفتار گرفتار

W
Web Desk
19 جون، 2026
پاکستانی  کمیونٹی  کے ڈے کیئر  میں کروڑوں ڈالرز کے فراڈ میں معروف کمیونٹی شخصیت سمیت آٹھ پاکستانی گرفتار گرفتار

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ اسکینڈل کا پردہ چاک ہوگیا ہے، جس میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور کمیونٹی رہنما پرویز صدیقی سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے

( نیویارک) امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ اسکینڈل کا پردہ چاک ہوگیا ہے، جس میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور کمیونٹی رہنما پرویز صدیقی سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے

وفاقی استغاثہ کے مطابق 78 سالہ پرویز صدیقی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بروکلین میں قائم دو سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر مراکز، APNA Adult Daycare اور Ashiana Social Adult Daycare کے ذریعے 2019 سے دسمبر 2025 تک میڈیکیڈ فنڈز میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کم آمدنی والے بزرگوں کو نقد رقم دے کر ان مراکز میں رجسٹر کراتے تھے، حالانکہ ان میں سے اکثر کبھی مراکز میں آئے ہی نہیں۔ بعد ازاں انہی افراد کے نام پر میڈیکیڈ سے لاکھوں ڈالر کے جعلی کلیمز وصول کیے جاتے رہے

عدالتی دستاویزات کے مطابق شازیہ بی بی (شازیہ وٹو)، عبدالعزیز، شیر علی، زیبون احمد، جوسنا بیگم، سائرہ خاتون اور عطیہ شہناز بھی اس مبینہ اسکیم کا حصہ تھے۔ الزام ہے کہ گروہ نے جعلی حاضری رجسٹر تیار کیے، پاکستان میں موجود بلنگ اسٹاف کے ذریعے ریکارڈ مرتب کیا اور رقم کو مختلف شیل کمپنیوں کے ذریعے "تحائف"، "ڈیویڈنڈ" اور "لڈو" جیسے کوڈ الفاظ استعمال کرکے منتقل کیا

وفاقی حکام کے مطابق دسمبر 2025 میں چھاپے کے بعد بعض ملزمان نے عملے کو موبائل فون تبدیل کرنے اور ڈیٹا حذف کرنے کی ہدایات بھی دیں تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق پرویز صدیقی نیو جرسی میں متعدد فارمیسیوں کے مالک ہیں اور برسوں سے ڈیموکریٹک سیاست دانوں کے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وہ مختلف انتخابی مہمات کے لیے ہزاروں ڈالر کے عطیات بھی دیتے رہے ہیں اور نیویارک کی سیاسی شخصیات تک خصوصی رسائی رکھتے تھے

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض رجسٹرڈ افراد امریکہ میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ پاکستان، مراکش اور دیگر ممالک میں مقیم ہونے کے باوجود ان کے نام پر میڈیکیڈ ادائیگیاں جاری رہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض خاندان میڈیکیڈ کارڈ فراہم کرنے کے بدلے ماہانہ 500 ڈالر تک وصول کرتے تھے

یہ اسکینڈل نیویارک میں میڈیکیڈ نظام کی نگرانی اور احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فراڈ کے ذریعے امریکی ٹیکس دہندگان کے کروڑوں ڈالر ضائع کیے جا رہے ہیں

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 19 جون، 2026 کو 03:36 AM

آخری تدوین: 19 جون، 2026

متعلقہ مضامین

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران شدید کمزور ہو چکا، مذاکرات میں جلدی ہمیں نہیں ایران کو تھی
امریکا

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران شدید کمزور ہو چکا، مذاکرات میں جلدی ہمیں نہیں ایران کو تھی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد ایران شدید کمزور ہو چکا ہے اور مذاکرات کے لیے جلدی واشنگٹن کو نہیں بلکہ تہران کو تھی۔ دوسری جانب ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں اور اسرائیلی وزراء کے بیانات کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے

Web Desk19 جون، 2026
ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی، جنگ محدود معاہدے پر ختم کی گئی
امریکا

ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی، جنگ محدود معاہدے پر ختم کی گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی اور جنگ کو بڑے علاقائی و عالمی بحران سے بچنے کے لیے محدود مفاہمتی معاہدے کے ذریعے ختم کیا گیا۔ ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کردیا

Web Desk19 جون، 2026
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی، خلیج عرب و عمان میں آمدورفت بحال
تازہ ترین

امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی، خلیج عرب و عمان میں آمدورفت بحال

امریکی سینٹکام نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تصدیق کردی۔ خلیج عرب اور خلیج عمان میں بحری آمدورفت بحال ہوگئی جبکہ امریکی بحری جہاز معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے علاقے میں موجود رہیں گے

Web Desk19 جون، 2026