امریکی وزیر دفاع: ایران کے خلاف دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی شدید ترین فوجی کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے
واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایسے بڑے فوجی حملے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جن کی شدت دوسری جنگِ عظیم کے بعد کم ہی دیکھنے میں آئی ہو۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج ہر ممکن کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پینٹاگون کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور امریکی افواج کو ہر وقت جنگی تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکی فوج فوری کارروائی کے لیے ہر لمحہ تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی مشن کو انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف انتہائی شدید نوعیت کی فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جس کی مثال دوسری جنگِ عظیم کے بعد کم ہی ملتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سخت بیانات مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی برادری دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 3 اگست، 2026 کو 06:25 AM
آخری تدوین: 3 اگست، 2026



