عوامی مینڈیٹ سے ہی آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوگی، رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہے اور عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر حکومت قائم کی جائے گی
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہو گئی ہے اور عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوگی۔
وفاقی وزیر امیر مقام کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں 20 نشستوں پر انتخابات مکمل ہوئے، جن میں مسلم لیگ (ن) نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں میں سے 7 پر انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 45 نشستوں میں سے اب تک 26 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیاب رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات سے قبل دھاندلی کے الزامات عائد کر رہی تھی، تاہم اب اسے قوم کو بتانا چاہیے کہ انتخابات شفاف تھے یا نہیں۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق دھاندلی کے ثبوت مانگنے پر پہلے 13 پولنگ اسٹیشنز کا دعویٰ کیا گیا، پھر یہ تعداد کم ہو کر 4 اور بعد ازاں صرف 2 پولنگ اسٹیشنز تک محدود رہ گئی۔
رانا ثنا اللہ نے کامیاب امیدواروں کو وزیراعظم، مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی وعدوں کے مطابق آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 10 اگست کو انتخابات کے تیسرے مرحلے کی تکمیل کے فوراً بعد مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور حکومت سازی سے متعلق امور پر مشاورت کی جائے گی۔
مشیرِ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ عوام کو اپنا حقِ رائے دہی آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا، تاہم انتخابات سے دو روز قبل ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر شہر کے ایک چوک پر ہنگامہ آرائی کی گئی۔ ان کے مطابق پولیس کی مداخلت کے دوران فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا، جس کے باعث شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوئی اور ووٹر ٹرن آؤٹ بھی متاثر ہوا۔
رانا ثنا اللہ نے مزید دعویٰ کیا کہ کراس فائرنگ میں ملوث افراد کی شناخت متعلقہ اداروں کے پاس موجود ہے، جبکہ ان کے بقول شہر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر ہنگامہ آرائی کی، جس سے مسلم لیگ (ن) کو انتخابی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی یا دیگر متعلقہ فریقین کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 3 اگست، 2026 کو 06:45 AM
آخری تدوین: 3 اگست، 2026



