حکومت پاکستان کا نیا ٹیکس جال، سوشل میڈیا سے کمائی پر ٹیکس عائد

نظروں کے سامنے موجود ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے مگر ٹیکس نیٹ پھر بھی وسیع نہیں ہو رہا۔ ایف بی آر اپنے لنگڑے نظام کو ٹھیک کرنے میں بری طرح ناکام
( اسلام آباد ) مالی سال 2026 کے فنانس بل کے تحت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے چار نئے ٹیکس اقدامات کی منظوری دی ہے، جن میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس، وراثت میں ملنے والی جائیدادوں پر کیپیٹل گینز ٹیکس، انکم ٹیکس گوشواروں کی لازمی الیکٹرانک فائلنگ اور ڈیجیٹل انضمام کے لیے 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ شامل ہیں, اگرچہ یہ اقدامات حکومت کے لیے بڑے پیمانے پر محصولات اکٹھا کرنے کا ذریعہ نہیں بنیں گے، لیکن ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اب ان آمدنیوں کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے جو طویل عرصے سے ٹیکس حکام کی نظروں سے اوجھل تھیں

ایف بی آر کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی 4 سے 10 ارب روپے کے درمیان ہے، جس کا بڑا حصہ اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر رہا ہے۔ اسی طرح وراثتی جائیدادوں کی فروخت پر کیپیٹل گینز ٹیکس کے تعین کے لیے انتقالِ وراثت کے وقت مارکیٹ ویلیو کو بنیاد بنانا ایک دیرینہ قانونی ابہام کو دور کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق لازمی ای فائلنگ اور ڈیجیٹل انضمام کے لیے ٹیکس کریڈٹ جیسے اقدامات معیشت کو مزید دستاویزی اور قابلِ نگرانی بنانے کی سمت میں پیش رفت ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات میں ایک پرانا تضاد بھی موجود ہے

پاکستان میں پہلے ہی رسمی معیشت کا حصہ بننے والے افراد اور کاروبار خطے کے بلند ترین مؤثر ٹیکس بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، مختلف اقسام کے ودہولڈنگ ٹیکس اور سپر ٹیکس سمیت متعدد محصولات عائد ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا آمدنی پر مزید 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ ایف بی آر اب بھی انہی ذرائع کو نشانہ بناتا ہے جو اس کی نظروں کے سامنے ہیں، بجائے اس کے کہ غیر رسمی شعبے کو کم ٹیکس اور آسان نظام کے ذریعے رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بینکنگ چینلز کے ذریعے ہونے والی آمدنی پر براہ راست کٹوتی بعض افراد کو حوالہ، کرپٹو کرنسی یا بیرون ملک اکاؤنٹس جیسے غیر دستاویزی ذرائع استعمال کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے، جس سے معیشت کو دستاویزی بنانے کا مقصد متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی ٹیکس وصولی کا قومی پیداوار (GDP) کے مقابلے میں کم تناسب بھی اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ ان کے نزدیک ٹیکس شرحوں میں اصلاحات، ریٹیل سیکٹر کی مکمل دستاویز بندی، زرعی آمدنی کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا اور جائیدادوں کی سرکاری قیمتوں اور مارکیٹ ویلیو کے درمیان فرق کم کرنا جیسے بنیادی اور سیاسی طور پر مشکل فیصلے مسلسل مؤخر کیے جا رہے ہیں

دوسری جانب 10 فیصد ڈیجیٹل انٹیگریشن ٹیکس کریڈٹ کو مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ سزا دینے کے بجائے کاروباروں کو رسمی معیشت کا حصہ بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آر واقعی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا چاہتا ہے تو اسے ایسے اقدامات پر زیادہ توجہ دینی ہوگی جو ٹیکس ادائیگی کو آسان اور فائدہ مند بنائیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ایک ایسا ٹیکس نظام جو ٹیکس چوری کے مقابلے میں قانون کی پاسداری کو زیادہ سستا اور آسان بنائے، وہ ہمیشہ اس نظام سے بہتر نتائج دیتا ہے جو پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کی کوشش کرے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 19 جون، 2026 کو 01:12 PM
آخری تدوین: 19 جون، 2026



