وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

حکومت پاکستان کا نیا ٹیکس جال، سوشل میڈیا سے کمائی پر ٹیکس عائد

W
Web Desk
19 جون، 2026
حکومت پاکستان کا نیا  ٹیکس جال،  سوشل میڈیا سے کمائی پر ٹیکس عائد

نظروں کے سامنے موجود ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے مگر ٹیکس نیٹ پھر بھی وسیع نہیں ہو رہا۔ ایف بی آر اپنے لنگڑے نظام کو ٹھیک کرنے میں بری طرح ناکام

( اسلام آباد ) مالی سال 2026 کے فنانس بل کے تحت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے چار نئے ٹیکس اقدامات کی منظوری دی ہے، جن میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس، وراثت میں ملنے والی جائیدادوں پر کیپیٹل گینز ٹیکس، انکم ٹیکس گوشواروں کی لازمی الیکٹرانک فائلنگ اور ڈیجیٹل انضمام کے لیے 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ شامل ہیں, اگرچہ یہ اقدامات حکومت کے لیے بڑے پیمانے پر محصولات اکٹھا کرنے کا ذریعہ نہیں بنیں گے، لیکن ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اب ان آمدنیوں کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے جو طویل عرصے سے ٹیکس حکام کی نظروں سے اوجھل تھیں

ایف بی آر کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی 4 سے 10 ارب روپے کے درمیان ہے، جس کا بڑا حصہ اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر رہا ہے۔ اسی طرح وراثتی جائیدادوں کی فروخت پر کیپیٹل گینز ٹیکس کے تعین کے لیے انتقالِ وراثت کے وقت مارکیٹ ویلیو کو بنیاد بنانا ایک دیرینہ قانونی ابہام کو دور کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق لازمی ای فائلنگ اور ڈیجیٹل انضمام کے لیے ٹیکس کریڈٹ جیسے اقدامات معیشت کو مزید دستاویزی اور قابلِ نگرانی بنانے کی سمت میں پیش رفت ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات میں ایک پرانا تضاد بھی موجود ہے

پاکستان میں پہلے ہی رسمی معیشت کا حصہ بننے والے افراد اور کاروبار خطے کے بلند ترین مؤثر ٹیکس بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، مختلف اقسام کے ودہولڈنگ ٹیکس اور سپر ٹیکس سمیت متعدد محصولات عائد ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا آمدنی پر مزید 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ ایف بی آر اب بھی انہی ذرائع کو نشانہ بناتا ہے جو اس کی نظروں کے سامنے ہیں، بجائے اس کے کہ غیر رسمی شعبے کو کم ٹیکس اور آسان نظام کے ذریعے رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بینکنگ چینلز کے ذریعے ہونے والی آمدنی پر براہ راست کٹوتی بعض افراد کو حوالہ، کرپٹو کرنسی یا بیرون ملک اکاؤنٹس جیسے غیر دستاویزی ذرائع استعمال کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے، جس سے معیشت کو دستاویزی بنانے کا مقصد متاثر ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی ٹیکس وصولی کا قومی پیداوار (GDP) کے مقابلے میں کم تناسب بھی اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ ان کے نزدیک ٹیکس شرحوں میں اصلاحات، ریٹیل سیکٹر کی مکمل دستاویز بندی، زرعی آمدنی کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا اور جائیدادوں کی سرکاری قیمتوں اور مارکیٹ ویلیو کے درمیان فرق کم کرنا جیسے بنیادی اور سیاسی طور پر مشکل فیصلے مسلسل مؤخر کیے جا رہے ہیں

دوسری جانب 10 فیصد ڈیجیٹل انٹیگریشن ٹیکس کریڈٹ کو مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ سزا دینے کے بجائے کاروباروں کو رسمی معیشت کا حصہ بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آر واقعی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا چاہتا ہے تو اسے ایسے اقدامات پر زیادہ توجہ دینی ہوگی جو ٹیکس ادائیگی کو آسان اور فائدہ مند بنائیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق ایک ایسا ٹیکس نظام جو ٹیکس چوری کے مقابلے میں قانون کی پاسداری کو زیادہ سستا اور آسان بنائے، وہ ہمیشہ اس نظام سے بہتر نتائج دیتا ہے جو پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کی کوشش کرے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 19 جون، 2026 کو 01:12 PM

آخری تدوین: 19 جون، 2026

متعلقہ مضامین

محسن نقوی حکومت کے طاقتور ترین وزیر ہیں، کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں، خواجہ آصف
پاکستان

محسن نقوی حکومت کے طاقتور ترین وزیر ہیں، کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی حکومت کے طاقتور ترین وزیر ہیں اور کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں۔ انہوں نے کابینہ، پارلیمنٹ اور حکومتی نظام سے متعلق بھی اہم ریمارکس دیے

Web Desk3 اگست، 2026
عوامی مینڈیٹ سے ہی آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوگی، رانا ثنا اللہ
تازہ ترین

عوامی مینڈیٹ سے ہی آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوگی، رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہے اور عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر حکومت قائم کی جائے گی

Web Desk3 اگست، 2026
راجا پرویز اشرف کا آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج مسترد کرنے اور تیسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا مطالبہ
پاکستان

راجا پرویز اشرف کا آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج مسترد کرنے اور تیسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا مطالبہ

پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے آزاد کشمیر انتخابات کو غیرشفاف قرار دیتے ہوئے نتائج مسترد کرنے اور تیسرے مرحلے کے انتخابات کے بائیکاٹ کی تجویز دے دی، جبکہ پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی الیکشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا

Web Desk3 اگست، 2026