بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور دہشتگردی کی سرپرستی کر رہا ہے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مؤقف

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، دہشتگردی کی سرپرستی اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہے۔ پاکستانی سفارتکار انصار شاہ نے عالمی برادری سے بھارت کو بین الاقوامی قوانین کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا
نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ دہشتگردی کی سرپرستی اور مالی معاونت میں بھی ملوث ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفارتکار انصار شاہ نے کہا کہ بھارت زمینی حقائق کو مسخ کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔
انصار شاہ نے یاد دلایا کہ اگست 2025 میں ثالثی عدالت یہ قرار دے چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
دہشتگردی کے حوالے سے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف اپنی مبینہ دہشتگردی کی سرپرستی اور مالی معاونت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہ، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ شامل ہیں، پاکستان میں ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں لے چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شمالی امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ماورائے عدالت قتل کی کارروائیوں میں بھی بھارت کے مبینہ ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں، اس لیے بھارت خود دہشتگردی کا شکار نہیں بلکہ اس کا سرپرست ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انصار شاہ نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برخلاف مسلسل حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے منشور، بالخصوص آرٹیکل 25، کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، جس کی قانونی اور تاریخی حیثیت کسی یکطرفہ اقدام سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
پاکستانی سفارتکار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بھارت کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنایا جائے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 23 جولائی، 2026 کو 12:38 PM
آخری تدوین: 23 جولائی، 2026



