نئے صوبوں کا معاملہ ایجنڈے پر نہیں، 1973 کا آئین اور موجودہ نظام ہی ملک کے لیے بہترین ہے: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ حکومت کے ایجنڈے پر نہیں، جبکہ 1973 کا آئین اور موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام ہی پاکستان کے استحکام اور مستقبل کی کامیابی کی بنیاد ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے آزاد کشمیر انتخابات کو شفاف قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنانے کا دعویٰ بھی کیا
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق اس وقت حکومت یا مسلم لیگ (ن) کے ایجنڈے پر کوئی معاملہ زیر غور نہیں، جبکہ 1973 کا آئین اور موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام ہی ملک کے استحکام اور اتحاد کی ضمانت ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کو شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے آزاد کشمیر کے عوام نے ن لیگ پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے میں بھی اعتراضات اور پروپیگنڈا کیا، تاہم انہیں امید ہے کہ انتخابات کے تیسرے مرحلے کے بعد تمام جماعتیں نتائج کو تسلیم کریں گی۔ ان کے مطابق آئندہ مرحلے میں 10 نشستوں میں سے 7 پر مسلم لیگ (ن) کامیابی حاصل کرے گی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری بھی بخوبی جانتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ انداز میں منعقد ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) اتحادی حکومت کے بجائے اپنی اکثریتی حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا ایسا کوئی اجلاس نہیں ہوا جس میں اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی یا فیصلہ کیا گیا ہو۔ ان کے مطابق اس وقت نئے صوبوں سے متعلق کوئی بحث حکومتی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین اور پارلیمانی جمہوری نظام میں کوئی بنیادی خرابی نہیں، بلکہ مسئلہ اس پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سے چھ دہائیوں کے دوران مختلف سیاسی بحران، مارشل لا اور غیر جمہوری ادوار کے باوجود آئین نے ملک اور وفاق کو متحد رکھا۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اگر آئین پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو یہی نظام بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ آئینی و جمہوری نظام گزشتہ نصف صدی سے ملک کو سنبھالتا آیا ہے اور آئندہ بھی یہی نظام پاکستان کے لیے کامیاب ثابت ہوگا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 4 اگست، 2026 کو 06:00 AM
آخری تدوین: 4 اگست، 2026



