پرامن جوہری توانائی میں روس، چین کا کلیدی شراکت دار ہے: صدر پوتن

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں روس چین کا کلیدی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے
ولادی ووستوک: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں روس، چین کا کلیدی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
ولادی ووستوک میں جاری ایسٹرن اکنامک فورم کے موقع پر چینی نائب وزیراعظم ڈنگ شوئی شیانگ سے ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کے اہم شعبوں میں باقاعدہ بین الحکومتی سطح پر کام جاری ہے۔
صدر پوتن کے مطابق چینی نائب وزیراعظم ڈنگ شوئی شیانگ روس اور چین کے درمیان سرمایہ کاری اور توانائی تعاون سے متعلق دو بین الحکومتی کمیشنوں کے شریک چیئرمین ہیں۔ ان کمیشنوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
روس چین توانائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور
روسی صدر نے بتایا کہ ایسٹرن اکنامک فورم کے دوران چینی نائب وزیراعظم روس کے پہلے نائب وزیراعظم ڈینس مانتوروف اور نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔
ڈنگ شوئی شیانگ آٹھویں روس چین انرجی بزنس فورم میں بھی شرکت کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کے مزید امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
صدر پوتن نے اس امید کا اظہار کیا کہ اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مؤثر راستوں کی مشترکہ تلاش نتیجہ خیز ثابت ہوگی اور روس و چین کے دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مدد دے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور توانائی تعاون باہمی تعلقات کا ایک اہم ستون ہے، جسے مستقبل میں مزید وسعت دینے کے امکانات موجود ہیں۔
شائع ہوا: 3 ستمبر، 2026 کو 03:09 AM
آخری تدوین: 3 ستمبر، 2026



