جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ متنازع علاقہ ہے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ اس کا داخلی معاملہ، جبکہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا
(نیویارک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور جبر کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی اور قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
صائمہ سلیم نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دریائے سندھ کا پانی کروڑوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگ یا سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی قونصلر نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن، سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 24 جولائی، 2026 کو 03:43 AM
آخری تدوین: 24 جولائی، 2026



