امریکا سے کشیدگی کے باوجود ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری، ایران کا انکشاف

ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود ثالثوں کے ذریعے سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ایران نے خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی کارروائی پر سخت ردعمل کی وارننگ دیتے ہوئے عبوری معاہدے اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنا مؤقف بھی واضح کیا
تہران: ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی تصادم کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران کو مختلف ثالثوں کے ذریعے امریکا کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ان پیغامات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران سفارتی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں اور متعدد ثالث مختلف تجاویز اور پیغامات ایران تک پہنچاتے رہے۔
انہوں نے حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خطے کے کسی بھی ملک سے دشمنی نہیں، تاہم تمام علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ جب تک ایران کے خلاف حملے اور جارحیت جاری رہے گی، ایرانی مسلح افواج بھی بھرپور جواب دیتی رہیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا جنوبی ایران میں واقع خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اس مہم جوئی کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت اور مسلح افواج کسی بھی ممکنہ امریکی زمینی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا اہم ترین مرکز ہے، جو صوبہ بوشہر کے ساحل سے تقریباً 55 کلومیٹر دور واقع ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دوران متعدد مرتبہ اس علاقے پر قبضے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے عبوری معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کا متن مکمل طور پر واضح ہے، اس میں 14 شقیں شامل ہیں اور اس کے متن میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے، جس پر عمان کے ساتھ مشاورت اور خطے کے دیگر ممالک سے مذاکرات کے ذریعے پیش رفت کی جائے گی۔
ایرانی ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی تمام شقیں واضح ہیں اور امریکا کے پاس اس کی خلاف ورزی کا کوئی قانونی یا سفارتی جواز موجود نہیں۔
شائع ہوا: 20 جولائی، 2026 کو 12:38 PM
آخری تدوین: 20 جولائی، 2026



