اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو غیرقانونی طور پر اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک دیا، نیا ہدایت نامہ جاری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے بینکوں کو بغیر قانونی جواز اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے اکاؤنٹس منجمد یا بلاک کرنے سے روک دیا، جبکہ عمل درآمد کی رپورٹ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی
(کراچی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عدالتی احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے بینکوں کو بغیر قانونی جواز اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے صارفین کے بینک اکاؤنٹس منجمد یا بلاک کرنے سے روک دیا ہے۔
اس حوالے سے جاری کیے گئے نئے ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی بینک اکاؤنٹ پر پابندی صرف اس صورت میں عائد کی جا سکتی ہے جب تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور متعلقہ مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ منظوری موجود ہو۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ غیرارادی یا احتیاطی بنیادوں پر اکاؤنٹس پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ اکاؤنٹ ہولڈرز کو بلاوجہ مالی یا انتظامی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ عدالت پہلے ہی اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ بغیر قانونی اختیار اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے کسی بھی شہری کا بینک اکاؤنٹ بلاک نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے بینکاری نظام میں شفافیت، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور قانونی طریقہ کار پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 جون، 2026 کو 05:59 AM
آخری تدوین: 30 جون، 2026



