امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کا پیدائشی شہریت منسوخ کرنے کا منصوبہ مسترد کر دیا
محمد نعیم اختر
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد آئین کے تحت شہریت کے حقدار ہیں
( واشنگٹن ڈی سی) امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا قانونی دھچکا دیتے ہوئے پیدائشی شہریت کو منسوخ کرنے کی ان کی کوشش مسترد کر دی۔ عدالت نے 3 کے مقابلے میں 6 ووٹوں سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد امریکی شہریت کے حقدار ہیں، چاہے ان کے والدین کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو۔
عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیا جس کے تحت وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ اگر کسی بچے کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہ ہو تو اس بچے کو پیدائش کے وقت امریکی شہریت نہ دی جائے۔ اس حکم نامے کو پہلے ہی نچلی عدالت نے روک دیا تھا، جسے اب سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آئین کی زبان، ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط عدالتی نظائر، خصوصاً 1898 کے تاریخی مقدمے United States v. Wong Kim Ark، اس بات کی واضح تائید کرتے ہیں کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد کو پیدائشی شہریت حاصل ہوتی ہے۔
یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ پیدائشی شہریت کو محدود کرنا ان کی سخت گیر امیگریشن حکمت عملی کا اہم حصہ تھا۔ سپریم کورٹ اس سے قبل بھی رواں سال ٹرمپ انتظامیہ کے عالمی ٹیرف سے متعلق ایک بڑے اقدام کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد پیدائشی شہریت کے اصول میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے صرف صدارتی حکم کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے آئینی ترمیم یا کانگریس کے ذریعے ایسا قانون درکار ہوگا جو آئینی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہو۔

محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 30 جون، 2026 کو 03:40 PM
آخری تدوین: 30 جون، 2026



