وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کا پیدائشی شہریت منسوخ کرنے کا منصوبہ مسترد کر دیا

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر
30 جون، 2026
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کا پیدائشی شہریت منسوخ کرنے کا منصوبہ مسترد کر دیا

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد آئین کے تحت شہریت کے حقدار ہیں

( واشنگٹن ڈی سی) امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا قانونی دھچکا دیتے ہوئے پیدائشی شہریت کو منسوخ کرنے کی ان کی کوشش مسترد کر دی۔ عدالت نے 3 کے مقابلے میں 6 ووٹوں سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد امریکی شہریت کے حقدار ہیں، چاہے ان کے والدین کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو۔

عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیا جس کے تحت وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ اگر کسی بچے کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہ ہو تو اس بچے کو پیدائش کے وقت امریکی شہریت نہ دی جائے۔ اس حکم نامے کو پہلے ہی نچلی عدالت نے روک دیا تھا، جسے اب سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آئین کی زبان، ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط عدالتی نظائر، خصوصاً 1898 کے تاریخی مقدمے United States v. Wong Kim Ark، اس بات کی واضح تائید کرتے ہیں کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد کو پیدائشی شہریت حاصل ہوتی ہے۔

یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ پیدائشی شہریت کو محدود کرنا ان کی سخت گیر امیگریشن حکمت عملی کا اہم حصہ تھا۔ سپریم کورٹ اس سے قبل بھی رواں سال ٹرمپ انتظامیہ کے عالمی ٹیرف سے متعلق ایک بڑے اقدام کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد پیدائشی شہریت کے اصول میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے صرف صدارتی حکم کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے آئینی ترمیم یا کانگریس کے ذریعے ایسا قانون درکار ہوگا جو آئینی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہو۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 30 جون، 2026 کو 03:40 PM

آخری تدوین: 30 جون، 2026

متعلقہ مضامین

صدر ٹرمپ ایران سے مذاکرات کی بحالی کے خواہاں، دوحہ میں نئی سفارتی کوششیں جاری
دُنیا

صدر ٹرمپ ایران سے مذاکرات کی بحالی کے خواہاں، دوحہ میں نئی سفارتی کوششیں جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ دوحہ میں ثالثی کی نئی کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی حکام نے ٹرمپ کے ملاقات سے متعلق دعوے کی تردید کر دی ہے

Web Desk30 جون، 2026
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران وقتی طور پر پیچھے ہٹنے پر آمادہ، مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان
تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران وقتی طور پر پیچھے ہٹنے پر آمادہ، مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان

امریکہ اور ایران نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی عارضی طور پر کم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے مزید فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Web Desk29 جون، 2026
حالیہ حملوں کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ تکنیکی مذاکرات منسوخ کر دیے
امریکا

حالیہ حملوں کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ تکنیکی مذاکرات منسوخ کر دیے

ایران نے امریکی حملوں اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد نہ ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ اتوار کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں شرکت منسوخ کر دی۔ ایرانی حکام نے کہا کہ مذاکرات کے لیے مطلوبہ شرائط پوری نہیں ہوئیں

Web Desk29 جون، 2026