امریکی صدر ٹرمپ کی بھی امن معاہدے کی تصدیق، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ معاہدے کے تحت فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور عالمی تجارت کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کے لیے راستے دوبارہ کھل جائیں گے۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعد عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین کو بحال کرنے کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر عسکری کارروائیوں کے خاتمے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے پیغام میں کہا، "معاہدہ مکمل ہو گیا ہے، مبارک ہو! آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کی جاتی ہے۔ دنیا کے جہاز روانہ ہوں اور تیل کی روانی دوبارہ شروع ہو۔"
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ ابتدائی سفارتی فریم ورک کا حصہ ہے، جس کے تحت آئندہ چند روز میں تکنیکی مذاکرات، عمل درآمد کے طریقہ کار اور دیگر انتظامی امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی، جہاں متعلقہ ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔
تجزیہ کار اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی معیشت پر دباؤ میں کمی کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بحالی کو عالمی تیل منڈی کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 15 جون، 2026 کو 03:15 AM
آخری تدوین: 15 جون، 2026



