ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ ٹیلیفونک گفتگو، لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید اختلافات
محمد نعیم اختر
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو انتہائی کشیدہ رہی، جس میں صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا
( واشنگٹن ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو انتہائی کشیدہ رہی، جس میں صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی خبر رساں ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کریں تاکہ ایران کے ساتھ جاری نازک سفارتی مذاکرات متاثر نہ ہوں۔ رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم سے انتہائی سخت لہجے میں بات کی اور کہا کہ لبنان میں حالیہ حملے "غیر متناسب" تھے اور ان سے امریکی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان میں شہری ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر تباہی نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ خاص طور پر اس بات پر ناراض تھے کہ ایک حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی گئی۔
ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو متنبہ کیا کہ لبنان میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ جنگ بندی اور سفارتی پیش رفت کے امکانات کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ ایران پہلے ہی لبنان کی صورتحال کے باعث مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر چکا ہے اور تہران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کا معاملہ بھی شامل ہونا چاہیے

ٹیلیفونک رابطے کے بعد دونوں رہنماؤں کے سوشل میڈیا بیانات میں بھی واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں گفتگو کو "انتہائی نتیجہ خیز" قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیروت پر کوئی حملہ نہیں ہوگا اور فریقین فائر بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔
اس کے برعکس وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر حزب اللہ اسرائیلی شہروں اور شہریوں پر حملے بند نہیں کرتی تو اسرائیل بیروت میں دہشت گردی کے اہداف کو نشانہ بناتا رہے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اسرائیلی دفاعی افواج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں منصوبے کے مطابق جاری رکھیں گی

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ایک اور سوشل میڈیا پیغام میں امید ظاہر کی کہ فائر بندی طویل عرصے تک برقرار رہے گی، تاہم ان کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اس معاملے پر مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔
امریکی سیاسی تجزیہ کار ڈیوڈ ایکسلروڈ نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ اطلاعات کے مطابق ہونے والی یہ گفتگو دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ اس بات پر ناراض ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کے لیے چیلنج بن رہا ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی امریکی عوام کو متاثر کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر لبنان میں کشیدگی برقرار رہتی ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات مزید تعطل کا شکار ہوتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں امن کی امریکی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان پالیسی اختلافات بھی مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ٹیلیفونک گفتگو کی مبینہ تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئ

محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 2 جون، 2026 کو 03:18 AM
آخری تدوین: 2 جون، 2026



