صدر ٹرمپ ایران سے مذاکرات کی بحالی کے خواہاں، دوحہ میں نئی سفارتی کوششیں جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ دوحہ میں ثالثی کی نئی کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی حکام نے ٹرمپ کے ملاقات سے متعلق دعوے کی تردید کر دی ہے
(واشنگٹن )امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے متعلق حالیہ تنازع کو پس پشت ڈال کر مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی نئی کوششیں بھی جاری ہیں۔
الجزیرہ کی واشنگٹن سے نشر ہونے والی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس وقت اپنی توجہ زیادہ تر داخلی معاملات پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں، تاہم وہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی بحالی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دیگر مذاکراتی ٹیموں کے ساتھ موجود ہوں گے، جہاں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ، کشیدگی میں کمی اور دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینا ہے۔ اگرچہ اس وقت فائرنگ کا سلسلہ رکا ہوا ہے، تاہم مستقل استحکام کے لیے سفارتی رابطوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ثالثی کے عمل سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کے باوجود پیش رفت سست اور پیچیدہ رہی ہے، جس کے باعث کسی بڑے بریک تھرو کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 جون، 2026 کو 03:54 AM
آخری تدوین: 30 جون، 2026



